السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: ما جاء في تضعيف الغرامة باب: جرمانہ دوگنا کرنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَجُلًا، مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ تَرَى فِي حَرِيسَةِ الْجَبَلِ؟ قَالَ: " هِيَ وَمِثْلُهَا وَالنَّكَالُ، وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمَاشِيَةِ قَطْعٌ إِلَّا فِيمَا آوَاهُ الْمُرَاحُ وَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ، فَفِيهِ قَطْعُ الْيَدِ، وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ "، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَكَيْفَ تَرَى فِي الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ؟ قَالَ: " هُوَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَالنَّكَالُ، وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ قَطْعٌ إِلَّا مَا آوَاهُ الْجَرِينُ، فَمَا أُخِذَ مِنَ الْجَرِينِ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ الْقَطْعُ، وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ ".سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی مزینہ قبیلے سے رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کی رائے پہاڑ کی چراگاہ سے چرائی گئی بکریوں کے متعلق کیا ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اور اس کے مثل (تاوان) اور عبرت والی سزا ہے، اور چرنے والے جانوروں میں سے کسی میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا سوائے اس کے جسے باڑے نے پناہ دی ہو اور اس کی قیمت ایک ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے، تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اور جس کی قیمت ایک ڈھال کی قیمت کو نہ پہنچے تو اس میں دوگنی چٹی ہے اور عبرت کے لیے کوڑے مارے جائیں گے۔“ پھر اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کا لٹکے ہوئے پھلوں کے متعلق کیا خیال ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اور اس کے ساتھ اس کے مثل (تاوان) اور عبرت والی سزا ہے، اور لٹکے ہوئے پھلوں میں سے کسی میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا سوائے اس کے جسے کھلیان نے پناہ دی ہو، تو جو کھلیان سے لیا جائے اور اس کی قیمت ایک ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اور جس کی قیمت ایک ڈھال کی قیمت کو نہ پہنچے تو اس میں دوگنی چٹی ہے اور عبرت کے لیے کوڑے مارے جائیں گے۔“