السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: ما جاء في تضعيف الغرامة باب: جرمانہ دوگنا کرنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، قَالَ: أَصَابَ غِلْمَانٌ لِحَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ بِالْعَالِيَةِ نَاقَةً لِرَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ فَانْتَحَرُوهَا وَاعْتَرَفُوا بِهَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، وَقَالَ: هَؤُلَاءِ أَعْبُدُكَ قَدْ سَرَقُوا وَانْتَحَرُوا نَاقَةَ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ وَاعْتَرَفُوا بِهَا، فَأَمَرَ كَثِيرَ بْنَ الصَّلْتِ أَنْ يَقْطَعَ أَيْدِيَهُمْ، ثُمَّ أَرْسَلَ بَعْدَمَا ذَهَبَ فَدَعَاهُ وَقَالَ: " لَوْلَا أَنِّي أَظُنُّ أَنَّكُمْ تُجِيعُونَهُمْ حَتَّى إِنَّ أَحَدَهُمْ أَتَى مَا حَرَّمَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَقَطَعْتُ أَيْدِيَهُمْ، وَلَكِنْ وَاللهِ لَئِنْ تَرَكْتُهُمْ لَأُغَرِّمَنَّكَ فِيهِمْ غَرَامَةً تُوجِعُكَ، فَقَالَ: كَمْ ثَمَنُهَا؟ لِلْمُزَنِيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَمْنَعُهَا مِنْ أَرْبَعِمِائَةٍ، قَالَ: فَأَعْطِهْ ثَمَانَمِائَةٍ ".یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب سے روایت ہے کہ حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے غلاموں نے عالیہ میں مزینہ قبیلے کے ایک آدمی کی اونٹنی پکڑ لی، اسے ذبح کیا اور اس کا اعتراف کیا، عمر رضی اللہ عنہ نے حاطب کی طرف (آدمی) بھیجا اور ان سے یہ ذکر کیا اور فرمایا: تیرے ان غلاموں نے مزینہ کے ایک آدمی کی اونٹنی چوری کر کے ذبح کی ہے اور اس کا اعتراف کیا ہے، اور کثیر بن صلت کو حکم دیا کہ وہ ان کے ہاتھ کاٹے، پھر ان کے جانے کے بعد انہیں بلوا بھیجا اور (حاطب سے) فرمایا: اگر مجھے یہ گمان نہ ہوتا کہ تم انہیں بھوکا رکھتے ہو یہاں تک کہ ان میں سے کوئی اللہ کی حرام کردہ چیز کا ارتکاب کر بیٹھا تو میں ضرور ان کے ہاتھ کاٹ دیتا، لیکن اللہ کی قسم! جب میں نے انہیں چھوڑ دیا ہے تو میں ان کی وجہ سے تم پر ایسی چٹی ڈالوں گا جو تمہیں تکلیف دے گی، پھر مزنی سے پوچھا: اس اونٹنی کی قیمت کتنی تھی؟ اس نے کہا: میں اسے چار سو میں بھی نہیں دیتا تھا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو اس کو آٹھ سو دے۔