حدیث نمبر: 17287
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، قَالَ: أَصَابَ غِلْمَانٌ لِحَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ بِالْعَالِيَةِ نَاقَةً لِرَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ فَانْتَحَرُوهَا وَاعْتَرَفُوا بِهَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، وَقَالَ: هَؤُلَاءِ أَعْبُدُكَ قَدْ سَرَقُوا وَانْتَحَرُوا نَاقَةَ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ وَاعْتَرَفُوا بِهَا، فَأَمَرَ كَثِيرَ بْنَ الصَّلْتِ أَنْ يَقْطَعَ أَيْدِيَهُمْ، ثُمَّ أَرْسَلَ بَعْدَمَا ذَهَبَ فَدَعَاهُ وَقَالَ: " لَوْلَا أَنِّي أَظُنُّ أَنَّكُمْ تُجِيعُونَهُمْ حَتَّى إِنَّ أَحَدَهُمْ أَتَى مَا حَرَّمَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَقَطَعْتُ أَيْدِيَهُمْ، وَلَكِنْ وَاللهِ لَئِنْ تَرَكْتُهُمْ لَأُغَرِّمَنَّكَ فِيهِمْ غَرَامَةً تُوجِعُكَ، فَقَالَ: كَمْ ثَمَنُهَا؟ لِلْمُزَنِيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَمْنَعُهَا مِنْ أَرْبَعِمِائَةٍ، قَالَ: فَأَعْطِهْ ثَمَانَمِائَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ

یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب سے روایت ہے کہ مزینہ قبیلے کی اونٹنی چوری ہوئی، حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے غلام نے اس کو ذبح کیا اور اعتراف کیا، عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف (آدمی) بھیجا اور ذکر کیا کہ تیرے غلام نے اونٹنی چوری کی ہے اور اس نے ذبح کیا اور اس کا اعتراف کیا، تو کثیر بن صلت کو حکم دے کہ وہ اس کے ہاتھ کاٹے، پھر انہوں نے کہا: جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو پہنچا، یعنی چوری کی تو میں اس کا ہاتھ کاٹوں گا، لیکن اللہ کی قسم! اگر آپ ان کو چھوڑ دو گے تو میں ان سے ضرور چٹی لوں گا، پھر پوچھا: اس اونٹنی کی قیمت کتنی تھی؟ حاطب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اس کو چار سو درہم میں بھی نہیں دیا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو اس کو آٹھ سو دے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17287
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»