حدیث نمبر: 17269
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، قَالَا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَمَةَ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أُتِيَ بِسَارِقٍ فَقَطَعَ يَدَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ فَقَطَعَ رِجْلَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ فَقَالَ: أَقْطَعُ يَدَهُ، بِأِيِّ شَيْءٍ يَتَمَسَّحُ، وَبِأِيِّ شَيْءٍ يَأْكُلُ؟ ثُمَّ قَالَ: أَقْطَعُ رِجْلَهُ، عَلَى أِيِّ شَيْءٍ يَمْشِي؟ إِنِّي لَأَسْتَحْيِي اللهَ، قَالَ: ثُمَّ ضَرَبَهُ وَخَلَّدَهُ السِّجْنَ " وَأَمَّا الْقَتْلُ فِي الْخَامِسَةِ الْمَنْقُولُ فِي الْخَبَرِ الْمَرْفُوعِ، فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ: الْقَتْلُ فِيمَنْ أُقِيمَ عَلَيْهِ حَدٌّ فِي شَيْءٍ أَرْبَعًا فَأَتَى بِهِ الْخَامِسَةَ مَنْسُوخٌ، وَاسْتَدَلَّ عَلَيْهِ بِمَا هُوَ مَنْقُولٌ فِي أَبْوَابِ حَدِّ الشَّارِبِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک چور لایا گیا، اس کا ہاتھ کاٹا گیا، پھر لایا گیا تو پاؤں کاٹا گیا، پھر لایا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں اس کا ہاتھ کاٹوں کہ وہ کوئی چیز نہ چھو سکے؟ پھر فرمایا: یا اس کا پاؤں کاٹوں جس پر وہ چلتا ہے؟ بے شک میں اللہ تعالیٰ سے شرماتا ہوں، پھر اس کو مارا پھر جیل میں ڈال دیا۔
اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس شخص کو قتل کرنا جس پر حد قائم ہو منسوخ ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17269
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»