السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: السارق يعود فيسرق ثانيا وثالثا ورابعا باب: چور کا دوسری، تیسری اور چوتھی مرتبہ چوری کرنے کے احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، قَالَا: أنبأ أَبُو الْفَضْلِ الْكَرَابِيسِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ، قَالَ: " أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِرَجُلٍ أَقْطَعَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ قَدْ سَرَقَ، فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يُقْطَعَ رِجْلُهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّمَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ} [المائدة: ٣٣] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَدْ قُطِعَتْ يَدُ هَذَا وَرِجْلُهُ، فَلَا يَنْبَغِي أَنْ تَقْطَعَ رِجْلَهُ فَتَدَعَهُ لَيْسَ لَهُ قَائِمَةٌ يَمْشِي عَلَيْهَا، إِمَّا أَنْ تُعَزِّرَهُ وَإِمَّا أَنْ تَسْتَوْدِعَهُ السِّجْنَ، قَالَ: فَاسْتَوْدَعَهُ السِّجْنَ " ⦗٤٧٧⦘ الرِّوَايَةُ الْأُولَى عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَوْلَى أَنْ تَكُونَ صَحِيحَةً، وَكَيْفَ تَصِحُّ هَذِهِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدْ أَنْكَرَ فِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى قَطْعَ الرِّجْلِ بَعْدَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ وَأَشَارَ بِالْيَدِ؟ وَرِوَايَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْصُولَةٌ تَشْهَدُ لِلرِّوَايَةِ الْأُولَى بِالصِّحَّةِ وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ فِيهَا مَا فِي رِوَايَةِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ فَأَمَّا مَا رُوِيَ فِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.سیدنا عبدالرحمن بن عائذ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایک آدمی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا، اس کا ہاتھ اور پاؤں کاٹا ہوا تھا۔ اس نے چوری کی تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اس کا پاؤں کاٹا جائے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ﴿ان لوگوں کا بدلہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں﴾ [سورة المائدة: 33] پھر اس کا ہاتھ کاٹ دیا اور پاؤں بھی کاٹ دیا، اب مناسب نہیں ہے کہ اس کا پاؤں کاٹا جائے پھر وہ نہ کھڑا ہو سکے اور چل سکے۔ اسے تعزیراً کوئی سزا دی جائے یا اس کو جیل میں قید کیا جائے۔ فرمایا: قید کیا جائے۔ ایک دوسری روایت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پہلی روایت پاؤں کے بعد ہاتھ کاٹنا اور پھر پاؤں کاٹنا اس میں منع کیا ہے اور ہاتھ کی طرف اشارہ کیا۔