السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: ما جاء في تعليق اليد في عنق السارق باب: چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکانے کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17270
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، قَالَ: قُلْتُ لِفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ: أَرَأَيْتَ تَعْلِيقَ يَدِ السَّارِقِ فِي الْعُنُقِ أَمِنَ السُّنَّةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَطَعَ سَارِقًا، ثُمَّ أَمَرَ بِيَدِهِ فَعُلِّقَتْ فِي عُنُقِهِ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آپ کا کیا خیال ہے کہ چور کا ہاتھ گردن میں لٹکانا سنت ہے؟ فرمایا: جی ہاں، میں نے آپ ﷺ کو دیکھا، آپ نے چور کا ہاتھ کاٹا پھر حکم دیا کہ ”اس کا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دو۔“