❮
❯
حدیث نمبر: 17259
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ نَاجِيَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنِي خَلِيلُ بْنُ أَبِي رَافِعٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، ثنا جَدِّي، ثنا مُصْعَبٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ ⦗٤٧٣⦘ الْهِلَالِيُّ، ثنا جَدِّي، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: جِيءَ بِسَارِقٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " اقْتُلُوهُ "، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا سَرَقَ؟ فَقَالَ: " اقْطَعُوهُ "، فَقُطِعَ ثُمَّ جِيءَ بِهِ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: " اقْتُلُوهُ "، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ: " اقْطَعُوهُ "، قَالَ: فَقُطِعَ ثُمَّ جِيءَ بِهِ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: " اقْتُلُوهُ "، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ: " اقْطَعُوهُ " ثُمَّ أُتِيَ بِهِ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: " اقْتُلُوهُ "، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ: " اقْطَعُوهُ "، فَأُتِيَ بِهِ الْخَامِسَةَ، فَقَالَ: " اقْتُلُوهُ " قَالَ جَابِرٌ: فَانْطَلَقْنَا بِهِ فَقَتَلْنَاهُ، ثُمَّ اجْتَرَرْنَاهُ فَأَلْقَيْنَاهُ فِي بِئْرٍ وَرَمَيْنَا عَلَيْهِ الْحِجَارَةَ لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي مَعْشَرٍ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى قَالَ: إِنَّهُ سَرَقَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " اقْطَعُوا يَدَهُ "، وَقَالَ فِي الْمَرَّةِ الثَّانِيَةِ بَعْدَ هَذَا الْقَوْلِ: " اقْطَعُوا رِجْلَهُ "، وَفِي الْمَرَّةِ الثَّالِثَةِ: " اقْطَعُوا يَدَهُ " وَفِي الْمَرَّةِ الرَّابِعَةِ: " اقْطَعُوا رِجْلَهُ "، وَفِي الْمَرَّةِ الْخَامِسَةِ قَالَ: " أَلَمْ أَقُلْ لَكُمُ: اقْتُلُوهُ اقْتُلُوهُ "، قَالَ: فَمَرَرْنَا بِهِ إِلَى مِرْبَدِ النَّعَمِ فَحَمَلْنَا عَلَيْهِ النَّعَمَ، فَشَالَ بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ حَتَّى نَفَرَتْ مِنْهُ الْإِبِلُ، قَالَ: فَعَلَوْنَاهُ بِالْحِجَارَةِ حَتَّى قَتَلْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک چور کو نبی ﷺ کے پاس لایا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اس نے تو صرف چوری کی ہے“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا (عضو) کاٹ دو“، چنانچہ کاٹ دیا گیا۔ پھر دوسری بار لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“۔ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اس نے تو صرف چوری کی ہے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا (عضو) کاٹ دو“، چنانچہ کاٹ دیا گیا۔ پھر تیسری بار لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“۔ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اس نے تو صرف چوری کی ہے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا (عضو) کاٹ دو“۔ پھر چوتھی بار لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“۔ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اس نے تو صرف چوری کی ہے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا (عضو) کاٹ دو“۔ پھر پانچویں بار لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم اسے لے گئے اور اسے قتل کر دیا، پھر ہم اسے گھسیٹ کر لے گئے اور اسے ایک کنویں میں پھینک دیا اور اس پر پتھر ڈال دیے۔
ابو معشر کی روایت میں ہے کہ پہلی مرتبہ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے چوری کی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا ہاتھ کاٹ دو“، دوسری مرتبہ اسی بات کے بعد فرمایا: ”اس کا پاؤں کاٹ دو“، تیسری مرتبہ: ”اس کا ہاتھ کاٹ دو“ اور چوتھی مرتبہ: ”اس کا پاؤں کاٹ دو“، اور پانچویں مرتبہ فرمایا: ”کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ اسے قتل کر دو، اسے قتل کر دو؟“ فرماتے ہیں: پھر ہم اسے جانوروں کے باڑے کی طرف لے گئے اور اس پر اونٹ چھوڑ دیے، تو اس نے اپنے ہاتھ پاؤں اٹھائے یہاں تک کہ اونٹ اس سے بدک گئے۔ پھر ہم نے اسے پتھر مار مار کر قتل کر دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17259