السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: السارق يعود فيسرق ثانيا وثالثا ورابعا باب: چور کا دوسری، تیسری اور چوتھی مرتبہ چوری کرنے کے احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ نَاجِيَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنِي خَلِيلُ بْنُ أَبِي رَافِعٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، ثنا جَدِّي، ثنا مُصْعَبٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ ⦗٤٧٣⦘ الْهِلَالِيُّ، ثنا جَدِّي، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: جِيءَ بِسَارِقٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " اقْتُلُوهُ "، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا سَرَقَ؟ فَقَالَ: " اقْطَعُوهُ "، فَقُطِعَ ثُمَّ جِيءَ بِهِ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: " اقْتُلُوهُ "، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ: " اقْطَعُوهُ "، قَالَ: فَقُطِعَ ثُمَّ جِيءَ بِهِ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: " اقْتُلُوهُ "، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ: " اقْطَعُوهُ " ثُمَّ أُتِيَ بِهِ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: " اقْتُلُوهُ "، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ: " اقْطَعُوهُ "، فَأُتِيَ بِهِ الْخَامِسَةَ، فَقَالَ: " اقْتُلُوهُ " قَالَ جَابِرٌ: فَانْطَلَقْنَا بِهِ فَقَتَلْنَاهُ، ثُمَّ اجْتَرَرْنَاهُ فَأَلْقَيْنَاهُ فِي بِئْرٍ وَرَمَيْنَا عَلَيْهِ الْحِجَارَةَ لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي مَعْشَرٍ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى قَالَ: إِنَّهُ سَرَقَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " اقْطَعُوا يَدَهُ "، وَقَالَ فِي الْمَرَّةِ الثَّانِيَةِ بَعْدَ هَذَا الْقَوْلِ: " اقْطَعُوا رِجْلَهُ "، وَفِي الْمَرَّةِ الثَّالِثَةِ: " اقْطَعُوا يَدَهُ " وَفِي الْمَرَّةِ الرَّابِعَةِ: " اقْطَعُوا رِجْلَهُ "، وَفِي الْمَرَّةِ الْخَامِسَةِ قَالَ: " أَلَمْ أَقُلْ لَكُمُ: اقْتُلُوهُ اقْتُلُوهُ "، قَالَ: فَمَرَرْنَا بِهِ إِلَى مِرْبَدِ النَّعَمِ فَحَمَلْنَا عَلَيْهِ النَّعَمَ، فَشَالَ بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ حَتَّى نَفَرَتْ مِنْهُ الْإِبِلُ، قَالَ: فَعَلَوْنَاهُ بِالْحِجَارَةِ حَتَّى قَتَلْنَاهُ.سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک چور کو نبی ﷺ کے پاس لایا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اس نے چوری کی ہے“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے ہاتھ کاٹ دو“، اس کے ہاتھ کاٹ دیے۔ پھر دوسری بار لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“۔ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اس نے چوری کی ہے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے پاؤں کاٹ دو“۔ پھر تیسری بار لایا گیا۔ پھر اسی طرح کہا کہ ”اسے قتل کر دو“ تو انہوں نے کہا کہ ”اس نے چوری کی ہے“۔ فرمایا: ”ہاتھ کاٹ دو“۔ پھر پانچویں بار لایا گیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے ہاتھ بڑھایا اس کو قتل کیا۔ پھر ہم نے اسے کنویں میں پھینک دیا اور پھر اس پر ہم نے پتھر ڈال دیے۔
اسی طرح ابو داؤد کی ایک روایت میں ہے جو پہلی مرتبہ چوری کرے اس کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ ”اس کا ہاتھ کاٹ دو“ اور جو دوسری مرتبہ کرے، ”اس کا پاؤں کاٹ دو“۔ جو تیسری مرتبہ کرے ”اس کا ہاتھ کاٹ دو“ جو چوتھی مرتبہ کرے ”اس کا پاؤں کاٹ دو“ اور فرمایا: ”جو پانچویں مرتبہ کرے“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو قتل کر دو“۔ فرماتے ہیں: پھر ہم اسے جانوروں کے باڑے کی طرف لے گئے۔ ہم نے اس پر جانور چڑھائے تو اس کے ہاتھ پاؤں شل ہو گئے۔ پھر اونٹوں نے اسے روندا۔ پھر ہم نے اسے پتھر مار مار کر قتل کر دیا۔