السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: ما يكون حرزا وما لا يكون باب: کون سی چیز حرز (محفوظ مقام) شمار ہوتی ہے اور کون سی نہیں، اس کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ الْمَكِّيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ مُعَلَّقٍ، وَلَا فِي حَرِيسَةِ جَبَلٍ، فَإِذَا آوَاهُ الْمُرَاحُ أَوِ الْجَرِينُ فَالْقَطْعُ فِيمَا بَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ " وَقَدْ رُوِّينَا هَذَا مَوْصُولًا مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَالْحَوَائِطُ لَيْسَتْ بِحِرْزٍ لِلنَّخْلِ وَلَا لِلثَّمَرِ؛ لِأَنَّ أَكْثَرَهَا مُبَاحٌ يُدْخَلُ مِنْ جَوَانِبِهِ، فَمَنْ سَرَقَ مِنْ حَائِطٍ شَيْئًا مِنْ تَمْرٍ مُعَلَّقٍ لَمْ يُقْطَعْ، فَإِذَا آوَاهُ الْجَرِينُ قُطِعَ فِيهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَجُمْلَةُ الْحِرْزَانِ يُنْظَرُ إِلَى الْمَسْرُوقِ: فَإِنْ كَانَ الْمَوْضِعَ الَّذِي سُرِقَ فِيهِ تَنْسِبُهُ الْعَامَّةُ إِلَى أَنَّهُ حِرْزٌ، فِي مِثْلِ ذَلِكَ الْمَوْضِعِ قُطِعَ إِذَا أَخْرَجَهُ مِنَ الْحِرْزِ، وَإِنْ لَمْ تَنْسِبْهُ الْعَامَّةُ إِلَى أَنَّهُ حِرْزٌ لَمْ يُقْطَعْ.ابن ابی حسین مکی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لٹکے ہوئے پھلوں میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور نہ پہاڑ والی بکری میں، اور جو بکریاں باڑے میں ہوں ان کو چوری کرنے میں ہاتھ کاٹا جائے گا اگر ان کی قیمت ڈھال کے برابر ہو۔“ ہم نے اس حدیث کو عمرو بن شعیب سے موصولاً بیان کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کھجوروں والے باغ محفوظ نہیں ہوتے یا کوئی اور پھلوں والے؛ کیونکہ زیادہ ان کی سائڈوں سے داخل ہوتے ہیں۔ جس نے باغ سے چوری کی اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ہاں جب پھل ٹوکری میں آجائے تو پھر ہاتھ کاٹا جائے گا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس چوری والی جگہ کو دیکھا جائے، اگر وہ جگہ محفوظ ہے تو چور کے ہاتھ کاٹے جائیں گے اور اگر محفوظ نہ ہو تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔