السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: ما يكون حرزا وما لا يكون باب: کون سی چیز حرز (محفوظ مقام) شمار ہوتی ہے اور کون سی نہیں، اس کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا ⦗٤٦٣⦘ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، أَنَّ عَبْدًا، سَرَقَ وَدِيًّا مِنْ حَائِطِ رَجُلٍ فَغَرَسَهُ فِي حَائِطِ سَيِّدِهِ، فَخَرَجَ صَاحِبُ الْوَدِيِّ يَلْتَمِسُ وَدِيَّهُ فَوَجَدَهُ، فَاسْتَعْدَى عَلَى الْعَبْدِ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، فَسَجَنَ الْعَبْدَ وَأَرَادَ قَطْعَ يَدِهِ، فَانْطَلَقَ سَيِّدُ الْعَبْدِ إِلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ " وَالْكَثَرُ: الْجُمَّارُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: فَإِنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ أَخَذَ غُلَامًا لِي وَيُرِيدُ قَطْعَ يَدِهِ، وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ تَمْشِيَ مَعِي إِلَيْهِ فَتُخْبِرَهُ بِالَّذِي سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَشَى مَعَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ حَتَّى أَتَى مَرْوَانَ فَقَالَ: أَخَذْتَ غُلَامًا لِهَذَا؟ فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: مَا أَنْتَ صَانِعٌ بِهِ؟ قَالَ: أَرَدْتُ قَطْعَ يَدِهِ، قَالَ لَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ "، فَأَمَرَ مَرْوَانُ بِالْعَبْدِ فَأُرْسِلَ.محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے کہ ایک غلام نے کسی آدمی کے باغ سے ایک کھجور کا پودا چوری کیا اور اس (پودے) کو اپنے سردار کے باغ میں گاڑ دیا، پھر اس باغ کا مالک نکلا جس کا پودا چوری ہوا تھا، اس نے تلاش کیا تو اپنے پودے کو (غلام کے سردار کے باغ میں) پایا تو اس غلام کو مروان بن حکم کے پاس لے گیا، اس نے اسے قید کیا اور ہاتھ کاٹنے کا ارادہ کیا تو غلام کا سردار سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی طرف گیا اور ان سے اس بارے میں سوال کیا، پھر انہوں نے خبر دی کہ انہوں نے نبی ﷺ سے اس بارے میں سنا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھلوں میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور نہ ہی پودا چرانے میں۔“ ایک آدمی نے کہا: مروان بن حکم نے میرے غلام کو پکڑا اور اس کا ہاتھ کاٹنے کا ارادہ کیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ اس کی طرف چلیں اور اسے اس بات کی خبر دیں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے، وہ اس کے ساتھ چلے یہاں تک کہ مروان کے پاس آئے، سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: کیا آپ نے اس کے غلام کو پکڑا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے اس کے ساتھ کیا کیا؟ اس نے کہا: (مروان نے) میں نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا ارادہ کیا ہے، مروان نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھلوں اور پودوں کو چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“؟ پھر مروان نے غلام کو چھوڑنے کا حکم دے دیا۔