السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: ما يكون حرزا وما لا يكون باب: کون سی چیز حرز (محفوظ مقام) شمار ہوتی ہے اور کون سی نہیں، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 17217
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قُوهْيَارٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، أنبأ بَكَّارُ بْنُ الْخَصِيبِ، ثنا حَبِيبٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: بَيْنَمَا صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ مُضْطَجِعٌ بِالْبَطْحَاءِ إِذْ جَاءَ إِنْسَانٌ فَأَخَذَ بُرْدَهُ مِنْ تَحْتِ رَأْسِهِ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ، فَقَالَ: إِنِّي أَعْفُو عَنْهُ أَوْ أَتَجَاوَزُ، قَالَ: " فَهَلْ قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنَا بِهِ أَبَا وَهْبٍ؟ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ ہمارے درمیان بطحاء میں سوئے ہوئے تھے، ایک آدمی آیا، اس نے آپ کے سر کے نیچے سے چادر اٹھا لی، یعنی چوری کر لی، تو حضرت صفوان رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے، حضرت صفوان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے اسے معاف کر دیا ہے اور اس سے درگزر کرتا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کاش! تو میرے پاس آنے سے پہلے کر دیتا اے ابو وہب!“