السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: ما يكون حرزا وما لا يكون باب: کون سی چیز حرز (محفوظ مقام) شمار ہوتی ہے اور کون سی نہیں، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 17216
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ مَالِكٍ هَذَا الْمُرْسَلُ يُقَوِّي الْأَوَّلَ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ كَاسِبٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ بِإِسْنَادِهِ مَوْصُولًا بِذِكْرِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيهِ، وَلَيْسَ بِصَحِيحٍ.حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکی ہے۔“
یہ مرسل روایت پہلی روایت کو تقویت دیتی ہے، اور یہ ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ نیز ابن کاسب کے واسطے سے سفیان بن عیینہ سے ان کی سند کے ساتھ موصولاً، ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ذکر کے ساتھ بھی مروی ہے، اور یہ صحیح نہیں ہے۔