السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: ما يكون حرزا وما لا يكون باب: کون سی چیز حرز (محفوظ مقام) شمار ہوتی ہے اور کون سی نہیں، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 17218
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحُنَيْنِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ، ثنا أَسْبَاطٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ حُمَيْدِ ابْنِ أُخْتِ صَفْوَانَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ عَلَى خَمِيصَةٍ لِي ثَمَنُ ثَلَاثِينَ دِرْهَمًا، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاخْتَلَسَهَا مِنِّي، فَأَخَذَ الرَّجُلَ فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهِ لِيُقْطَعَ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: أَتَقْطَعُهُ مِنْ أَجْلِ ثَلَاثِينَ دِرْهَمًا، أَنَا أَبِيعُهُ وَأُنْسِئُهُ ثَمَنَهَا، قَالَ: " أَلَا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ " هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ حَمَّادٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں مسجد میں سویا ہوا تھا، میرے پاس ایک قمیض تھی جس کی قیمت تین درہم تھی، ایک آدمی آیا اور اس نے وہ قمیض مجھ سے چوری کر لی۔ وہ آدمی پکڑا گیا، جب وہ نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں آپ ﷺ کے پاس آیا، میں نے عرض کیا: کیا آپ اس کا ہاتھ کاٹیں گے تین درہم کے بدلہ میں؟ میں نے اس کو خریدا اور میں اس کی قیمت بھول گیا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! کاش تو میرے پاس آنے سے پہلے معاملہ حل کر لیتا۔“