السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: ما يكون حرزا وما لا يكون باب: کون سی چیز حرز (محفوظ مقام) شمار ہوتی ہے اور کون سی نہیں، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 17215
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ، قِيلَ لَهُ: مَنْ لَمْ يُهَاجِرْ هَلَكَ، فَقَدِمَ صَفْوَانُ الْمَدِينَةَ فَنَامَ فِي الْمَسْجِدِ مُتَوَسِّدًا رِدَاءَهُ، فَجَاءَ سَارِقٌ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ مِنْ تَحْتِ رَأْسِهِ، فَأَخَذَ صَفْوَانُ السَّارِقَ فَجَاءَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُقْطَعُ يَدُهُ، فَقَالَ صَفْوَانُ: إِنِّي لَمْ أُرِدْ هَذَا، هُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: جس شخص نے ہجرت نہیں کی وہ ہلاک ہو گیا، حضرت صفوان رضی اللہ عنہ مدینہ میں آئے تو مسجد میں چادر ٹیک سے لگا کر سو گئے۔ ایک چور آیا اور ان کے سر کے نیچے سے چادر نکال کر لے گیا تو حضرت صفوان رضی اللہ عنہ نے چور کو پکڑ لیا اور نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے حکم دیا: ”تو اس کے ہاتھ کاٹ دے۔“ تو حضرت صفوان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے یہ ارادہ نہیں کیا، بلکہ وہ اس پر صدقہ ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کاش! تو میرے پاس آنے سے پہلے کر دیتا۔“