السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما جاء فيمن أتى جارية امرأته باب: اس شخص کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، أنبأ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حُجَيَّةَ بْنَ عَدِيٍّ الْكِنْدِيَّ، يَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجِي يَأْتِي جَارِيَتِي، فَقَالَ لَهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنْ تَكُونِي صَادِقَةً نَرْجُمْ زَوْجَكِ، وَإِنْ تَكُونِي كَاذِبَةً نَجْلِدْكِ "، قَالَ: فَقَالَتْ: رُدُّونِي إِلَى بَيْتِي، إِلَى بَيْتِي. وَرَوَاهُ شُعْبَةُ بِإِسْنَادِهِ، وَزَادَ: فَقَالَتْ: رُدُّونِي إِلَى أَهْلِي غَيْرَى نَغِرَةٌ، وَمَعْنَاهُ أَنَّ جَوْفَهَا يَغْلِي مِنَ الْغَيْظِ وَالْغَيْرَةِ. وَقَدْ رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ قَالَ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ؛ لِأَنَّ زِنَاهُ بِجَارِيَةِ امْرَأَتِهِ مِثْلُ زِنَاهُ بِغَيْرِهَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ مِمَّنْ يُعْذَرُ بِالْجَهَالَةِ، وَيَقُولُ: كُنْتُ أَرَى أَنَّهَا لِي حَلَالٌ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلُ هَذَا بِإِسْنَادٍ مُرْسَلٍ جَيِّدٍ.حجیہ بن عدی کندی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک عورت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہا: میرا خاوند میری لونڈی پر واقع ہو گیا ہے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو سچی ہے تو میں تیرے خاوند کو رجم کروں گا اور اگر تو جھوٹی ہے تو تجھے کوڑے ماروں گا، تو وہ کہنے لگی: مجھے میرے گھر لوٹا دو، مجھے میرے گھر لوٹا دو۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی لونڈی سے زنا ایسے ہی ہے جیسے کسی اور سے زنا کیا ہو۔ اگر وہ جہالت کی وجہ سے معذور ہے کہ وہ کہے کہ میں اسے حلال سمجھتا تھا تو اور بات ہے۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی ایک مرسل روایت آئی ہے۔