السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما جاء فيمن أتى جارية امرأته باب: اس شخص کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: وَهَبَتِ امْرَأَةٌ لِزَوْجِهَا جَارِيَةً، فَخَرَجَ بِهَا فِي سَفَرٍ فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَحَبَلَتْ، فَبَلَغَ امْرَأَتَهُ حَبْلُهَا، فَأَتَتْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَتْ: إِنِّي بَعَثْتُ مَعَ زَوْجِي بِجَارِيَةٍ تَخْدُمُهُ وَتَقُومُ عَلَيْهِ، فَبَلَغَنِي أَنَّهَا قَدْ حَبِلَتْ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ الرَّجُلُ أَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " مَا فَعَلَتِ الْجَارِيَةُ فُلَانَةٌ، أَأَحْبَلْتَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ أَأَبْتَعْتَهَا؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَوَهَبَتْهَا لَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَلَكَ بَيِّنَةٌ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: لَا، فَقَالَ: لَتَأْتِيَنِّي بِالْبَيِّنَةِ أَوْ لَأَرْجُمَنَّكَ، فَقِيلَ لِلْمَرْأَةِ: إِنَّ زَوْجَكِ يُرْجَمُ، فَأَتَتْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَقَرَّتْ أَنَّهَا وَهَبَتْهَا لَهُ، فَجَلَدَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْحَدَّ "، أُرَاهُ حَدَّ الْقَذْفِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَهَالَةِ، وَقَالَ كُنْتُ أَرَى أَنَّهَا حَلَالٌ لِي، فَإِنَّا نَدْرَأُ عَنْهُ الْحَدَّ، وَعَزَّرْنَاهُ.نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے خاوند کو ایک اپنی لونڈی ہبہ کر دی، وہ اسے سفر میں ساتھ لے گیا اور اس پر واقع ہوا تو وہ حاملہ ہو گئی، جب عورت کو اس کے حاملہ ہونے کا پتا چلا تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئی اور کہا کہ میں نے خدمت کے لیے اپنے خاوند کو اپنی لونڈی دی تو مجھے پتا چلا ہے کہ اس نے اسے حاملہ کر دیا ہے۔ جب وہ آدمی واپس لوٹا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بلا لیا اور پوچھا کہ فلاں لونڈی کے ساتھ تم نے کیا کیا، حاملہ کر دیا؟ کہا: ہاں، پوچھا: کیا اسے خریدا تھا؟ کہا: نہیں، پوچھا: ہبہ کی گئی تھی؟ کہا: ہاں، پوچھا: کوئی ثبوت ہے؟ کہا: ثبوت تو نہیں ہے، تو فرمایا: ثبوت لاؤ ورنہ میں تجھے رجم کروں گا۔ اس عورت کو کہا گیا کہ تیرے شوہر کو رجم کیا جائے گا تو وہ عورت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور اقرار کیا کہ اس نے ہبہ کیا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو حدِ قذف لگائی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر اس نے جہالت میں ایسا کیا ہے حلال سمجھتے ہوئے تو ہم اس سے حد ساقط کر دیں گے لیکن تعزیراً سزا دیں گے۔