السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما جاء فيمن أتى جارية امرأته باب: اس شخص کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کی۔
حدیث نمبر: 17079
وَعَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَوْ أَتَيْتُ بِهِ لَرَجَمْتُهُ "، قَالَ الْعَدَنِيُّ: يَعْنِي رَجُلًا وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ، ⦗٤١٩⦘ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: قَوْلُهُ: إِنَّ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ، يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ، لَا يَدْرِي مَا حَدَثَ بَعْدَهُ، دَلِيلٌ عَلَى نَسْخٍ وَرَدٍّ عَلَى مَا أَفْتَى بِهِ.حافظ ثناء اللہ
ابراہیم کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میرے پاس آئے تو میں رجم کردیتا۔ عوفی کہتے ہیں: یعنی وہ شخص جو اپنی بیوی کی لونڈی پر واقع ہوا تھا۔
شیخ فرماتے ہیں کہ «ابن أم عبد» سے مراد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں اور یہ کہنا کہ وہ نہیں جانتا کہ بعد میں کیا ہوا، یہ اس کے نسخ کی دلیل ہے اور اس کا رد ہے جو انہوں نے فتویٰ دیا۔