السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: من اعتبر حضور الإمام والشهود، وبداية الإمام بالرجم إذا ثبت الزنا باعتراف المرجوم، وبداية الشهود به إذا ثبت بشهادتهم باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جنہوں نے امام اور گواہوں کی حاضری کو معتبر قرار دیا ہے، اور اگر زنا رجم ہونے والے کے اعتراف سے ثابت ہو تو امام رجم کی ابتدا کرے گا، اور اگر گواہی سے ثابت ہو تو گواہ ابتدا کریں گے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا عَمَّارٌ هُوَ ابْنُ رُزَيْقٍ عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِشَرَاحَةَ الْهَمْدَانِيَّةِ قَدْ فَجَرَتْ، فَرَدَّهَا حَتَّى وَلَدَتْ، فَلَمَّا وَلَدَتْ قَالَ: ائْتُونِي بِأَقْرَبِ النِّسَاءِ مِنْهَا، فَأَعْطَاهَا وَلَدَهَا، ثُمَّ جَلَدَهَا وَرَجَمَهَا، ثُمَّ قَالَ: جَلَدْتُهَا بِكِتَابِ اللهِ، وَرَجَمْتُهَا بِالسُّنَّةِ، ثُمَّ قَالَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَعَى عَلَيْهَا وَلَدُهَا، أَوْ كَانَ اعْتِرَافٌ، فَالْإِمَامُ أَوَّلُ مَنْ يَرْجُمُ، ثُمَّ النَّاسُ، فَإِنْ نَعَاهَا الشُّهُودُ فَالشُّهُودُ أَوَّلُ مَنْ يَرْجُمُ، ثُمَّ الْإِمَامُ ثُمَّ النَّاسُ ".شعبی کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس شراحہ ہمدانیہ کو لایا گیا، جس سے زنا سرزد ہو گیا تھا، پھر اسے لوٹا دیا کہ وہ وضع حمل کر دے۔ جب بچہ پیدا ہو گیا تو فرمایا: اس کی سب سے قریبی عورت رشتہ دار کو بلاؤ، وہ بلائی گئی، پھر بچہ اسے دے دیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے پہلے اسے کوڑے مارے، پھر رجم کیا اور کہا کہ میں نے کتاب اللہ کی وجہ سے کوڑے مارے ہیں اور سنتِ رسول ﷺ کے مطابق رجم کیا ہے۔ پھر فرمایا: جس عورت کا بھی اعتراف یا حمل سے زنا ظاہر ہو جائے تو سب سے پہلے امام اسے رجم کرے، پھر لوگ، اگر اس کا زنا گواہی سے ظاہر ہوا ہے تو سب سے پہلے گواہ، پھر امام اور پھر لوگ رجم کریں۔