السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: من أجاز أن لا يحضر الإمام المرجومين ولا الشهود باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جنہوں نے اس بات کو جائز قرار دیا ہے کہ رجم کیے جانے والوں کے پاس نہ امام حاضر ہو اور نہ ہی گواہ۔
حدیث نمبر: 16961
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُتِيَ بِامْرَأَةٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي أَمْرِهِ بِرَجْمِهَا، وَأَنَّهُ أَمَرَ بِرَدِّهَا، فَوُجِدَتْ قَدْ رُجِمَتْ.حافظ ثناء اللہ
مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انھیں یہ بات پہنچی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو رجم کرنے کا حکم دیا اور اسے رجم کیا گیا، یہ لمبی حدیث سے مختصر ہے۔