السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: من اعتبر حضور الإمام والشهود، وبداية الإمام بالرجم إذا ثبت الزنا باعتراف المرجوم، وبداية الشهود به إذا ثبت بشهادتهم باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جنہوں نے امام اور گواہوں کی حاضری کو معتبر قرار دیا ہے، اور اگر زنا رجم ہونے والے کے اعتراف سے ثابت ہو تو امام رجم کی ابتدا کرے گا، اور اگر گواہی سے ثابت ہو تو گواہ ابتدا کریں گے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ الْأَجْلَحُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: جِيءَ بِشَرَاحَةَ الْهَمْدَانِيَّةِ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهَا: وَيْلَكِ لَعَلَّ رَجُلًا وَقَعَ عَلَيْكِ وَأَنْتِ نَائِمَةٌ، قَالَتْ: لَا، قَالَ: لَعَلَّكِ اسْتَكْرَهَكِ، قَالَتْ: لَا، قَالَ: لَعَلَّ زَوْجَكِ مِنْ عَدُوِّنَا هَذَا أَتَاكِ، فَأَنْتِ تَكْرَهِينَ أَنْ تَدُلِّي عَلَيْهِ يُلَقِّنُهَا لَعَلَّهَا تَقُولُ: نَعَمْ قَالَ: فَأَمَرَ بِهَا فَحُبِسَتْ، فَلَمَّا وَضَعَتْ مَا فِي بَطْنِهَا أَخْرَجَهَا يَوْمَ الْخَمِيسِ فَضَرَبَهَا مِائَةً، وَحَفَرَ لَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي الرَّحَبَةِ، وَأَحَاطَ النَّاسُ بِهَا وَأَخَذُوا الْحِجَارَةَ، فَقَالَ: لَيْسَ هَكَذَا الرَّجْمُ، إِذًا يُصِيبُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، صُفُّوا كَصَفِّ الصَّلَاةِ، صَفًّا خَلْفَ صَفٍّ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّمَا امْرَأَةٍ جِيءَ بِهَا، وَبِهَا حَبَلٌ، يَعْنِي، أَوِ اعْتَرَفَتْ فَالْإِمَامُ أَوَّلُ مَنْ يَرْجُمُ ثُمَّ النَّاسُ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ جِيءَ بِهَا، أَوْ رَجُلٍ زَانٍ فَشَهِدَ عَلَيْهِ أَرْبَعَةٌ بِالزِّنَا، فَالشُّهُودُ أَوَّلُ مَنْ يَرْجُمُ، ثُمَّ الْإِمَامُ ثُمَّ النَّاسُ، ثُمَّ رَجَمَهَا ثُمَّ أَمَرَهُمْ فَرَجَمَ صَفٌّ ثُمَّ صَفٌّ، ثُمَّ قَالَ: افْعَلُوا بِهَا مَا تَفْعَلُونَ بِمَوْتَاكُمْ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ ذَكَرْنَا أَنَّ جَلْدَ الثَّيِّبِ صَارَ مَنْسُوخًا، وَأَنَّ الْأَمْرَ صَارَ إِلَى الرَّجْمِ فَقَطْ.شعبی کہتے ہیں کہ شراحہ ہمدانیہ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو آپ نے اس سے فرمایا: تیرا ناس ہو، شاید کسی آدمی نے تجھ سے اس وقت صحبت کی ہو جب تو سو رہی تھی؟ اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: شاید اس نے تجھ سے زبردستی کی ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: شاید تیرا شوہر جو ہمارے اس دشمن میں سے ہے تیرے پاس آیا ہو اور تو اس کی نشاندہی کرنا پسند نہ کرتی ہو؟ آپ اسے یہ باتیں سمجھا رہے تھے کہ شاید وہ ہاں کہہ دے۔ پھر آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے قید کر دیا گیا، جب اس نے اپنے پیٹ کا بچہ جن دیا تو آپ نے اسے جمعرات کے دن نکالا اور سو کوڑے مارے، اور جمعہ کے دن رحبہ میں اس کے لیے گڑھا کھدوایا۔ لوگوں نے اسے گھیر لیا اور پتھر اٹھا لیے تو آپ نے فرمایا: رجم اس طرح نہیں ہوتا، اس طرح تو تم ایک دوسرے کو مار بیٹھو گے، نماز کی صفوں کی طرح صف کے پیچھے صف بنا لو۔ پھر فرمایا: اے لوگو! جو عورت بھی اس حال میں لائی جائے کہ وہ حاملہ ہو، یا وہ اعتراف کر لے تو سب سے پہلے امام رجم کرے، پھر لوگ، اور جو عورت یا زانی مرد لایا جائے اور اس کے خلاف چار آدمی زنا کی گواہی دیں تو سب سے پہلے گواہ رجم کریں، پھر امام اور پھر لوگ۔ پھر آپ نے اسے رجم کیا، پھر لوگوں کو حکم دیا تو ایک صف کے بعد دوسری صف نے رجم کیا، پھر فرمایا: اس کے ساتھ وہی کرو جو تم اپنے مردوں کے ساتھ کرتے ہو۔
شیخ فرماتے ہیں کہ شادی شدہ کو کوڑے مارنا منسوخ ہو چکا ہے، اب اس کے لیے صرف رجم ہے۔