السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: من أجاز أن لا يحضر الإمام المرجومين ولا الشهود باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جنہوں نے اس بات کو جائز قرار دیا ہے کہ رجم کیے جانے والوں کے پاس نہ امام حاضر ہو اور نہ ہی گواہ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَتَاهُ رَجُلٌ، وَهُوَ بِالشَّامِ، فَذَكَرَ لَهُ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، فَبَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ إِلَى امْرَأَتِهِ يَسْأَلُهَا عَنْ ذَلِكَ، فَأَتَاهَا وَعِنْدَهَا نِسْوَةٌ حَوْلَهَا، فَذَكَرَ لَهَا الَّذِي قَالَ زَوْجُهَا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَخْبَرَهَا أَنَّهَا لَا تُؤْخَذُ بِقَوْلِهِ، وَجَعَلَ يُلَقِّنُهَا أَشْبَاهَ ذَلِكَ لِتَنْزِعَ، فَأَبَتْ أَنْ تَنْزِعَ، وَثَبَتَتْ عَلَى الِاعْتِرَافِ، فَأَمَرَ بِهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرُجِمَتْ " قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْكِتَابِ: وَلَمْ يَقُلْ أَعْلِمْنِي أَحْضِرْهَا، وَلَقَدْ أَمَرَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِرَجْمِ امْرَأَةٍ، فَرُجِمَتْ وَمَا حَضَرَهَا.سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس شام میں ایک شخص آیا، اس نے کہا کہ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک دوسرے مرد کو دیکھا ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو واقد رضی اللہ عنہ کو اس کی بیوی کے پاس تصدیق کے لیے بھیجا، تو وہ اس کی بیوی کے پاس آئے۔ اس کے ارد گرد عورتیں تھیں، تو اسے سیدنا ابو واقد رضی اللہ عنہ نے ساری بات بتائی اور کہا کہ اس کے کہنے پر آپ کو سزا نہیں دی جائے گی، تو اس کی ساتھ والی اسے کہنے لگی کہ تو انکار کر دے، تو اس نے منع کر دیا کہ میں انکار کروں اور اقرار کر لیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حکم پر اسے رجم کر دیا گیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے جب ایک عورت کو رجم کیا تھا تو خود حاضر ہونے کا نہیں کہا تھا۔