حدیث نمبر: 16947
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أََبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، وَأَبُو الْحَسَنِ السَّرَّاجُ، قَالَا: أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حَنَشَ بْنَ الْمُعْتَمِرِ، قَالَ: " تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنَّا امْرَأَةً فَزَنَى قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَأَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَقَالَ: إِنَّ الْمَرْأَةَ لَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ عِنْدَهُ، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: أَمَّا التَّفْرِيقُ بَيْنَهُمَا بِالزِّنَا حُكْمًا، فَلَا نَقُولُ بِهِ لِمَا ذَكَرْنَا فِي كِتَابِ النِّكَاحِ مِنَ الْحُجَجِ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا بِرِضَاهُ بِالتَّفْرِيقِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

حنش بن معتمر کہتے ہیں کہ ہم میں سے ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی، پھر دخول سے پہلے اس نے کسی سے زنا کر لیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس پر حد لگا دی اور عورت نے بھی اس کے پاس نہ رہنا چاہا تو ان میں بھی جدائی کروا دی۔
شیخ فرماتے ہیں کہ ان کے درمیان جدائی حکماً تھی۔ ہم یہ نہیں کہتے اور اس بات کا بھی احتمال ہے کہ ان کی رضا مندی سے تفریق کرائی گئی ہو۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحدود / حدیث: 16947