السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما جاء فيمن تزوج امرأة ولم يمسها ثم زنى باب: اس شخص کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان جس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور اس سے صحبت نہ کی، پھر زنا کا ارتکاب کر لیا۔
حدیث نمبر: 16948
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ: كَانُوا يَقُولُونَ " مَنْ تَزَوَّجَ مِمَّنْ لَمْ يَكُنْ أُحْصِنَ قَبْلَ ذَلِكَ، فَزَنَى قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِامْرَأَتِهِ، فَلَا رَجْمَ عَلَيْهِ، وَالْمَرْأَةُ مِثْلُ ذَلِكَ، فَإِنْ دَخَلَ بِامْرَأَتِهِ سَاعَةً مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ أَوْ أَكْثَرَ، فَزَنَى بَعْدَ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ الرَّجْمُ، وَالْمَرْأَةُ مِثْلُ ذَلِكَ، وَالْإِمَاءُ أُمَّهَاتُ الْأَوْلَادِ لَا يُوجِبْنَ الرَّجْمَ ".حافظ ثناء اللہ
ابوزناد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے فقہائے اہل مدینہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی اس سے پہلے محصن نہ رہا ہو، شادی کرے، لیکن بیوی سے نہ ملا ہو، پھر اس سے زنا ہو جائے تو اس پر رجم نہیں ہے اور عورت بھی اسی طرح ہے، اور اگر وہ دن یا رات کی ایک گھڑی یا اس سے زیادہ اپنی بیوی سے مل چکا ہو، پھر اس کے بعد زنا کرے تو اس پر رجم ہے اور عورت بھی اسی طرح ہے، اور لونڈیاں جو اولاد کی مائیں ہوں (ان سے صحبت) رجم کو واجب نہیں کرتیں۔