السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما جاء فيمن تزوج امرأة ولم يمسها ثم زنى باب: اس شخص کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان جس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور اس سے صحبت نہ کی، پھر زنا کا ارتکاب کر لیا۔
حدیث نمبر: 16946
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي عِجْلٍ قَالَ: جِئْتُ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ⦗٣٧٨⦘ بِصِفِّينَ، فَإِذَا رَجُلٌ فِي زَرْعٍ يُنَادِي: إِنِّي قَدْ أَصَبْتُ فَاحِشَةً، فَأَقِيمُوا عَلَيَّ الْحَدَّ، فَرَفَعْتُهُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " هَلْ تَزَوَّجْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَدَخَلْتَ بِهَا؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَجَلَدَهُ مِائَةً، وَأَغْرَمَهُ نِصْفَ الصَّدَاقِ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا.حافظ ثناء اللہ
سماک بن حرب کہتے ہیں کہ بنو عجل کے ایک شخص نے مجھے بتایا کہ جنگ صفین میں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ اچانک ایک آدمی چیخنے لگا: میں نے زنا کر لیا ہے، مجھ پر حد قائم کی جائے۔ میں اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے گیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: شادی کی ہے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: بیوی سے دخول بھی کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے سو کوڑے مارے اور بیوی کو نصف حق مہر دلوایا اور ان کے درمیان جدائی کروا دی۔