السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما يستدل به على شرائط الإحصان باب: احصان (شادی شدہ ہونے) کی شرائط کے متعلق دلائل کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ الْيَهُودَ جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرُوا لَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ وَامْرَأَةً زَنَيَا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ مِنْ شَأْنِ الزِّنَا؟ " قَالُوا: نَفْضَحُهُمْ وَيُجْلَدُونَ، قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: كَذَبْتُمْ، إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ، فَأَتَوْا بِالتَّوْرَاةِ فَنَشَرُوهَا فَجَعَلَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ، وَجَعَلَ يَقْرَأُ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: ارْفَعْ يَدَكَ، فَرَفَعَهَا فَإِذَا فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ، فَقَالُوا: صَدَقَ يَا مُحَمَّدُ، فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ، فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا، قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَحْنِي عَلَى الْمَرْأَةِ يَقِيهَا الْحِجَارَةَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ وَغَيْرِهِ عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مَالِكٍ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہود میں سے ایک مرد اور عورت نے زنا کر لیا، وہ نبی ﷺ کے پاس آ گئے تو نبی ﷺ نے پوچھا: ”تم تورات میں اس کا کیا حکم پاتے ہو؟“ وہ کہنے لگے کہ انھیں ذلیل کریں اور کوڑے ماریں، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”تم جھوٹ بولتے ہو، تورات لے آؤ، اس میں رجم کا حکم ہے۔“ وہ تورات لے آئے اور ایک شخص آیتِ رجم پر ہاتھ رکھ کر اس سے پہلے اور بعد میں پڑھنے لگا، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اپنا ہاتھ اٹھاؤ۔“ جب اس نے ہاتھ اٹھایا تو وہاں رجم کی آیت تھی، تو وہ لوگ کہنے لگے: ”سچ ہے اے محمد! رجم کی آیت موجود ہے۔“ پھر نبی ﷺ نے رجم کا حکم دے دیا اور انھیں رجم کیا گیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ وہ شخص عورت پر جھک رہا تھا تاکہ اسے پتھروں سے بچا لے۔