السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما يستدل به على شرائط الإحصان باب: احصان (شادی شدہ ہونے) کی شرائط کے متعلق دلائل کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي ⦗٣٧٤⦘ طَالِبٍ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَا: ثنا وَكِيعٌ، وَثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: مَرُّوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَهُودِيٍّ قَدْ جُلِدَ وَحُمِمَ وَجْهُهُ، فَسَأَلَ الْيَهُودَ: " مَنْ عَالِمُكُمْ؟ " فَقَالُوا: فُلَانٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَجَاءَ، فَقَالَ: " مَا تَجِدُونَ حَدَّ الزِّنَا فِي كِتَابِكُمْ؟ " فَقَالُوا: نَجِدُهُ الرَّجْمَ، وَلَكِنْ فَشَا الزِّنَا فِي أَشْرَافِنَا، فَكَانَ الشَّرِيفُ إِذَا زَنَى لَمْ يُرْجَمْ، وَإِذَا زَنَى السَّفِيهُ رُجِمَ، فَاصْطَلَحْنَا عَلَى الْجَلْدِ وَالتَّحْمِيمِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ فَرُجِمَ، ثُمَّ قَالَ: " اللهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي أَوَّلُ مَنْ أَحْيَا سُنَّةً أَمَاتُوهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبِي سَعِيدٍ الْأَشَجِّ.سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگ ایک شخص کو لے کر نبی ﷺ کے پاس سے گزرے جسے کوڑے لگائے گئے تھے اور منہ کالا کر کے گھمایا جا رہا تھا، تو آپ ﷺ نے یہودیوں سے پوچھا: ”تمہارا عالم کون ہے؟“ انہوں نے کہا: فلاں، تو نبی ﷺ نے اس کی طرف کسی کو بھیجا، وہ آیا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم اپنی کتاب میں زنا کی حد کیا پاتے ہو؟“ اس نے کہا: رجم، لیکن زنا ہمارے اشراف میں پھیل گیا، تو جب کوئی بڑا زنا کرتا ہے تو اسے رجم نہیں کیا جاتا اور جب کوئی غریب زنا کرے تو اسے رجم کیا جاتا ہے، اسے ہم رجم کے بدلے کوڑے اور منہ کالا کرنے کی سزا دیتے ہیں، تو نبی ﷺ نے اس کے رجم کا حکم دے دیا، اسے رجم کر دیا گیا اور پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! گواہ رہنا، میں نے ان کی ایک فوت شدہ سنت کو زندہ کیا ہے۔“