السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما يستدل به على شرائط الإحصان باب: احصان (شادی شدہ ہونے) کی شرائط کے متعلق دلائل کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّائِغُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ طَهِّرْنِي، فَقَالَ: " وَيْحَكَ ارْجِعْ فَاسْتَغْفِرِ اللهَ وَتُبْ إِلَيْهِ " قَالَ: فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ طَهِّرْنِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَيْحَكَ ارْجِعْ فَاسْتَغْفِرِ اللهَ وَتُبْ إِلَيْهِ " قَالَ: فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ طَهِّرْنِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ الرَّابِعَةُ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِمَّ أُطَهِّرُكَ؟ " فَقَالَ: مِنَ الزِّنَا، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبِهِ جُنُونٌ؟ " فَأُخْبِرَ أَنَّهُ لَيْسَ بِمَجْنُونٍ، فَقَالَ: " أَشَرِبَ خَمْرًا؟ " فَقَامَ رَجُلٌ فَاسْتَنْكَهَهُ فَلَمْ يَجِدْ مِنْهُ رِيحَ خَمْرٍ، فَقَالَ ⦗٣٧٣⦘ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَثَيِّبٌ أَنْتَ؟ " قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ، فَكَانَ النَّاسُ فِيهِ فَرِيقَيْنِ، تَقُولُ فِرْقَةٌ: لَقَدْ هَلَكَ مَاعِزٌ عَلَى أَسْوَأِ عَمَلِهِ، لَقَدْ أَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ، وَقَائِلٌ يَقُولُ: أَتَوْبَةٌ أَفْضَلُ مِنْ تَوْبَةِ مَاعِزٍ أَنْ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي يَدِهِ فَقَالَ: اقْتُلْنِي بِالْحِجَارَةِ قَالَ: فَلَبِثُوا بِذَلِكَ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُمْ جُلُوسٌ، فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: " اسْتَغْفِرُوا لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ " قَالَ: فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللهُ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ؟ قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ أُمَّةٍ لَوَسِعَتْهَا " قَالَ: ثُمَّ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ غَامِدٍ مِنَ الْأَزْدِ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ طَهِّرْنِي، قَالَ: " وَيْحَكِ ارْجِعِي فَاسْتَغْفِرِي اللهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ " قَالَتْ: لَعَلَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَرْدُدَنِي كَمَا رَدَدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ؟ قَالَ: " وَمَا ذَاكَ؟ " قَالَتْ: إِنَّهَا حُبْلَى مِنَ الزِّنَا، فَقَالَ: " أَثَيِّبٌ أَنْتِ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: " إِذًا لَا نَرْجُمُكِ حَتَّى تَضَعِي مَا فِي بَطْنِكِ " قَالَ: فَكَفَلَهَا رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتَّى وَضَعَتْ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: قَدْ وَضَعَتِ الْغَامِدِيَّةُ، فَقَالَ: " إِذًا لَا نَرْجُمُهَا وَنَدَعُ وَلَدَهَا صَغِيرًا لَيْسَ لَهُ مَنْ يُرْضِعُهُ " فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: إِلِيَّ رَضَاعُهُ يَا نَبِيَّ اللهِ، فَرَجَمَهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْلَى.سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کر دیجیے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو برباد ہو، جا اللہ سے توبہ کر لے۔“ اس نے تین مرتبہ یہی کہا اور آپ ﷺ نے تین مرتبہ یہی جواب دیا۔ جب چوتھی بار اس نے کہا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کس چیز سے تجھے پاک کروں؟“ اس نے کہا: زنا سے، تو نبی ﷺ نے پوچھا: ”کیا پاگل ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا شراب پی ہوئی ہے؟“ ایک شخص کھڑا ہوا، اس نے اس کا منہ سونگھا تو اس نے شراب بھی نہیں پی ہوئی تھی، تو نبی ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم شادی شدہ ہو؟“ اس نے کہا: ہاں، تو آپ ﷺ کے حکم پر اسے رجم کر دیا گیا۔ لوگوں کے دو گروہ ہو گئے۔ ایک کہنے لگا: ماعز تو برے عمل پر مرا ہے۔ دوسرے کہنے لگے: اس جیسی توبہ تو کسی کی ہے ہی نہیں کہ اس نے اپنا ہاتھ نبی ﷺ کے ہاتھ میں دے دیا، تو وہ بیٹھے تھے کہ نبی ﷺ تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ماعز کے لیے استغفار کی دعا کرو۔“ لوگوں نے دعا کی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ساری امت پر تقسیم کی جائے تو سب کو کافی ہو جائے۔“ پھر ایک غامدیہ عورت آئی تو اس نے بھی اقرار کیا۔ آپ ﷺ نے اسے بھی ماعز والا جواب دیا کہ: ”جا توبہ کر لے۔“ تو وہ کہنے لگی: کیا آپ مجھے بھی ماعز کی طرح لوٹانا چاہتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا ہے؟“ اس نے جواب دیا کہ وہ زنا سے حاملہ ہے، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو شادی شدہ ہے؟“ اس نے کہا: ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وضع حمل تک ہم تجھے رجم نہیں کر سکتے۔“ تو اس کی کفالت ایک شخص نے کی۔ جب اس نے بچہ جن دیا تو نبی ﷺ کے پاس وہ شخص آیا اور آپ ﷺ کو بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابھی رجم نہیں کر سکتے، بچے کی پرورش کون کرے گا؟“ تو ایک انصاری رضی اللہ عنہ کھڑا ہوا اور بچے کی پرورش کی ذمہ داری اپنے سر لی تو آپ ﷺ کے حکم پر اسے رجم کر دیا گیا۔