وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُونُسَ الْأُمَوِيُّ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ الْقُرَشِيُّ ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ثنا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُنَا عَنْ لَيْلَةِ أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَسْجِدِ الْكَعْبَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ: " فَأَوْحَى إِلَيْهِ مَا شَاءَ فِيمَا أَوْحَى خَمْسِينَ صَلَاةً عَلَى أُمَّتِهِ كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ثُمَّ هَبَطَ حَتَّى بَلَغَ مُوسَى فَاحْتَبَسَهُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَا عَهِدَ إِلَيْكَ رَبُّكَ؟ قَالَ: عَهِدَ إِلِيَّ خَمْسِينَ صَلَاةً عَلَى أُمَّتِي كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ قَالَ: فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تَسْتَطِيعُ فَارْجِعْ فَلْيُخَفِّفْ عَنْكَ وَعَنْهُمْ فَالْتَفَتَ إِلِيَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَأَنَّهُ يَسْتَشِيرُهُ فِي ذَلِكَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنْ نَعَمْ إِنْ شِئْتَ فَعَلَا بِهِ جِبْرِيلُ فَقَالَ: يَا رَبِّ خَفِّفْ عَنَّا فَإِنَّ أُمَّتِي لَا تَسْتَطِيعُ هَذَا فَوَضَعَ عَنْهُ عَشْرَ صَلَوَاتٍ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مُوسَى فَاحْتَبَسَهُ وَلَمْ يَزَلْ يَرُدُّهُ مُوسَى إِلَى رَبِّهِ حَتَّى صَارَ إِلَى خَمْسِ صَلَوَاتٍ ثُمَّ احْتَبَسَهُ عِنْدَ الْخَامِسَةِ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ قَدْ وَاللهِ رَاوَدْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى أَدْنَى مِنْ هَذِهِ الْخَمْسِ فَضَيَّعُوهُ وَتَرَكُوهُ وَأُمَّتُكَ أَضْعَفُ أَجْسَادًا وَقُلُوبًا وَأَبْصَارًا وَأَسْمَاعًا فَارْجِعْ فَلْيُخَفِّفْ عَنْكَ رَبُّكَ فَالْتَفَتَ إِلَى جِبْرِيلَ لِيُشِيرَ عَلَيْهِ فَلَا يَكْرَهُ ذَلِكَ جِبْرِيلُ فَرَفَعَهُ عِنْدَ الْخَامِسَةِ فَقَالَ: يَا رَبِّ إِنَّ أُمَّتِي ضِعَافٌ أَجْسَادُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ وَأَسْمَاعُهُمْ وَأَبْصَارُهُمْ فَخَفِّفْ عَنَّا فَقَالَ: إِنِّي لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدِيَّ هِيَ كَمَا كُتِبَتْ عَلَيْكُمْ فِي أُمِّ الْكِتَابِ وَلَكَ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرُ أَمْثَالِهَا هِيَ خَمْسُونَ فِي أُمِّ الْكِتَابِ وَهِيَ خَمْسٌ عَلَيْكَ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، عَنْ هَارُونَ الْأَيْلِيِّ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.شریک بن عبداللہ بن ابی نمر کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے رات والا واقعہ سنا جب نبی ﷺ کو مسجد الکعبہ کی سیر کرائی گئی، آپ ﷺ کی طرف وحی نازل ہوئی جو اللہ نے چاہی، آپ ﷺ کی امت پر دن اور رات میں پچاس نمازوں کا حکم ہوا، پھر آپ ﷺ نیچے اترے، جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچے تو انہوں نے آپ کو روک لیا اور کہا: اے محمد! آپ کے رب نے آپ کے ساتھ کیا وعدہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت پر دن اور رات میں پچاس نمازوں کا وعدہ کیا ہے“ انہوں نے کہا: آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی، آپ واپس جائیں اور اپنے رب سے اس میں آسانی کروائیں۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام کی طرف جھانکا، گویا ان سے اس کے متعلق مشورہ طلب کر رہا ہوں، اس نے اشارہ کیا، ہاں! اگر آپ چاہتے ہیں۔ جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو ساتھ لیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے میرے رب! ہم پر آسانی کر، بیشک میری امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی“ اللہ نے دس نمازیں کم کر دیں، پھر آپ ﷺ موسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹے تو انہوں نے آپ کو روک لیا اور موسیٰ علیہ السلام مسلسل آپ ﷺ کو اللہ کی طرف واپس لوٹاتے رہے یہاں تک کہ نمازیں پانچ ہو گئیں، پھر پانچویں مرتبہ بھی روک لیا، انہوں نے کہا: اے محمد! اللہ کی قسم! میں نے بنی اسرائیل کو اس سے آسان کام کی ترغیب دی تو انہوں نے اس کو ضائع کر دیا اور اس کو چھوڑ دیا، اور آپ کی امت جسم و قلب، سننے اور دیکھنے کے لحاظ سے بہت کمزور ہے، آپ واپس جائیں اور اپنے رب سے آسانی کے متعلق کہیں۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام کی طرف جھانکا تاکہ ان سے مشورہ لوں، جبرائیل علیہ السلام نے اس کو ناپسند نہیں سمجھا اور پانچویں مرتبہ پھر معاملہ اٹھایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے میرے رب! بیشک میری امت، ان کے جسم اور دل اور کان اور آنکھیں کمزور ہیں، ہم پر آسانی فرما“ اللہ نے فرمایا: میرے ہاں باتیں تبدیل نہیں ہوتیں، جس طرح لوح محفوظ میں لکھ دیا گیا ہے اور آپ ﷺ کے لیے ہر ایک نیکی کے بدلے اس کا دس گنا ہے، لوح محفوظ میں پچاس ہی ہیں اور آپ پر پانچ ہیں، پھر لمبی حدیث بیان کی۔