حدیث نمبر: 1689
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ الْخَفَّافَ، أنبأ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ قِصَّةَ الْمِعْرَاجِ وَفِيهَا قَالَ: " وَفُرِضَتْ عَلَيَّ خَمْسُونَ صَلَاةً كُلَّ يَوْمٍ - أَوْ قَالَ: أُمِرْتُ بِخَمْسِينَ صَلَاةٍ كُلَّ يَوْمٍ الشَّكُّ مِنْ سَعِيدٍ - فَجِئْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى مُوسَى فَقَالَ لِي: بِمَا أُمِرْتَ؟ فَقُلْتُ: أُمِرْتُ بِخَمْسِينَ صَلَاةً كُلَّ يَوْمٍ قَالَ: إِنِّي قَدْ بَلَوْتُ النَّاسَ قَبْلَكَ وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ وَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا يُطِيقُونَ ذَلِكَ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ فَرَجَعْتُ فَحَطَّ عَنِّي خَمْسَ صَلَوَاتٍ فَمَا زِلْتُ أَخْتَلِفُ بَيْنَ رَبِّي وَبَيْنَ مُوسَى كُلَّمَا أَتَيْتُ عَلَيْهِ قَالَ لِي مِثْلَ مَقَالَتِهِ حَتَّى رَجَعْتُ بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ فَلَمَّا أَتَيْتُ عَلَى مُوسَى قَالَ لِي: بِمَا أُمِرْتُ؟ قُلْتُ: بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ قَالَ: إِنِّي بَلَوْتُ النَّاسَ قَبْلَكَ وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ وَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا يُطِيقُونَ ذَلِكَ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ قُلْتُ: لَقَدْ رَجَعْتُ إِلَى ⦗٥٣٠⦘ رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ وَلَكِنْ أَرْضَى وَأُسَلِّمُ قَالَ: فَنُودِيتُ أَوْ نَادَانِي مُنَادٍ - الشَّكُّ مِنْ سَعِيدٍ - أَنْ قَدْ أَمْضَيْتُ فَرِيضَتِي وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِي وَجَعَلْتُ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ " أَمْثَالِهَا مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے معراج کا قصہ نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھ پر ہر دن میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں“ یا فرمایا: ”مجھے ہر دن پچاس نمازوں کا حکم دیا گیا“ (سعید کو شک ہے)۔ ”میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انھوں نے مجھے کہا: آپ کو کس چیز کا حکم دیا گیا ہے؟ میں نے کہا: مجھے دن میں پچاس نمازوں کا حکم دیا گیا، ان کو خوب پرکھا، انھوں نے کہا: میں نے لوگوں کو آپ ﷺ سے پہلے آزمایا ہے اور بنی اسرائیل کا بہت معالجہ کیا ہے، آپ ﷺ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی، اپنے رب کی طرف واپس جائیں اور اپنی امت کے لیے آسانی کا سوال کریں۔ میں واپس لوٹا تو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پانچ نمازیں کم کر دیں، میں مسلسل اپنے رب کے پاس اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس آتا جاتا رہا جب میں ان کے پاس آتا تو مجھے پہلی بات کی طرح کہتے، یہاں تک کہ میں ہر دن میں پانچ نمازوں کے ساتھ واپس لوٹا، جب میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انھوں نے مجھے کہا: آپ کو کس کا حکم دیا گیا ہے؟ میں نے کہا: مجھے ہر دن میں پانچ نمازوں کا حکم دیا گیا ہے، انھوں نے کہا: آپ سے پہلے میں نے لوگوں کو آزمایا ہے اور بنی اسرائیل کا بہت سخت تجربہ کیا ہے آپ کی امت بیشک اس کی طاقت نہیں رکھے گی، اپنے رب کی طرف واپس جائیں اور اپنی امت کے لیے آسانی کا سوال کریں۔ میں اپنے رب کی طرف واپس لوٹا تو مجھے حیاء محسوس ہوئی، اور میں نے کہا: میں راضی اور فرمان بردار ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے آواز دی گئی یا آواز دینے والے نے آواز دی“ (سعید راوی کو شک ہے) ”کہ میں نے اپنے فریضے کو جاری کر دیا ہے، میں نے اپنے بندوں پر آسانی کر دی ہے اور میں ہر نیکی (کے اجر) کو دس گنا بڑھا دیا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1689
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري 3674»