أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ، قَالَا: ثنا مَالِكٌ عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ نَسْمَعُ دَوِيَّ صَوْتِهِ وَلَا نَفْقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ " فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ؟ قَالَ: " لَا، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ " فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ " قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ؟ قَالَ: " لَا، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ " قَالَ: وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: " لَا، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ " فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ: وَاللهِ لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَاِ وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي حَدِيثِهِ وَذَكَرَ الصَّدَقَةَ فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ.ابوسہیل بن مالک کے والد نے سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ اہل نجد کا ایک شخص پراگندہ سر والا نبی ﷺ کے پاس آیا، ہم اس کی آواز کی گنگناہٹ سنتے تھے اور ہم سمجھتے نہیں تھے وہ کیا کہہ رہا ہے، یہاں تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے قریب ہو گیا اور اسلام کے متعلق سوال کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دن اور رات میں پانچ نمازیں۔“ اس نے کہا: کیا مجھ پر اس کے علاوہ بھی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، مگر یہ کہ تو نفل پڑھے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رمضان کے مہینے کے روزے۔“ اس نے کہا: کیا مجھ پر اس کے علاوہ بھی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، مگر یہ کہ تو نفلی روزے رکھے۔“ راوی کہتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے زکاۃ کا بھی ذکر کیا۔ اس نے کہا: کیا مجھ پر اس کے علاوہ بھی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مگر یہ کہ تو نفلی صدقہ دے۔“ وہ آدمی واپس پلٹا اور کہہ رہا تھا: اللہ کی قسم! نہ میں اس سے زیادہ کروں گا اور نہ کم۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کامیاب ہو گیا اگر اس نے سچ کہا ہے۔“