السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المرتد— مرتد کا بیان
باب: المكره على الردة باب: اس شخص کا بیان جسے ارتداد پر مجبور کیا گیا ہو۔
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {مَنْ كَفَرَ بِاللهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ، وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا} [النحل: 106] الْآيَةَ.اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿مَنْ كَفَرَ بِاللهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ، وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا﴾ ”جو شخص اپنے ایمان لانے کے بعد اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے، سوائے اس کے جسے مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو، لیکن جو شخص کھلے دل سے کفر اختیار کرے۔“ (الآیۃ) [سورة النحل: 106]
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ بِهَمَذَانَ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبِي، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَخَذَ الْمُشْرِكُونَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ، فَلَمْ يَتْرُكُوهُ حَتَّى سَبَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ آلِهَتَهُمْ بِخَيْرٍ، ثُمَّ تَرَكُوهُ، فَلَمَّا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا وَرَاءَكَ؟ " قَالَ: شَرٌّ يَا رَسُولَ اللهِ مَا تُرِكْتُ حَتَّى نُلْتُ مِنْكَ وَذَكَرْتُ آلِهَتَهُمْ بِخَيْرٍ، قَالَ: " كَيْفَ تَجِدُ قَلْبَكَ؟ " قَالَ: مُطْمَئِنًّا بِالْإِيمَانِ، قَالَ: " إِنْ عَادُوا فَعُدْ ".سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے مشرکین نے پکڑ لیا اور انہوں نے اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک میں نے نبی ﷺ کو برا اور ان کے الٰہوں کو اچھا نہ کہہ دیا۔ جب میں نبی ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا ہوا؟“ میں نے کہا: بہت برا، جب تک میں نے آپ ﷺ کے بارے میں برا اور ان کے الٰہ کے بارے میں اچھا نہ کہہ دیا، تب تک انہوں نے مجھے نہیں چھوڑا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے دل کی کیا حالت تھی؟“ میں نے کہا: ایمان پر مطمئن تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ دوبارہ ایسا کریں تو تم بھی کر دینا۔“