السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المرتد— مرتد کا بیان
باب: المكره على الردة باب: اس شخص کا بیان جسے ارتداد پر مجبور کیا گیا ہو۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الْبَخْتَرِيِّ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " إِنَّ أَوَّلَ مَنْ أَظْهَرَ إِسْلَامَهُ سَبْعَةٌ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعَمَّارٌ، وَأُمُّهُ سُمَيَّةُ، وَصُهَيْبٌ، وَبِلَالٌ، وَالْمِقْدَادُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فَأَمَّا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَهُ اللهُ ⦗٣٦٣⦘ بِعَمِّهِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَمَّا أَبُو بَكْرٍ فَمَنَعَهُ اللهُ بِقَوْمِهِ، وَأَمَّا سَائِرُهُمْ فَأَخَذَهُمُ الْمُشْرِكُونَ فَأَلْبَسُوهُمْ أَدْرَاعَ الْحَدِيدِ، وَأَوْقَفُوهُمْ فِي الشَّمْسِ، فَمَا مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وَاتَاهُمْ عَلَى مَا أَرَادُوا غَيْرَ بِلَالٍ، فَإِنَّهُ هَانَتْ عَلَيْهِ نَفْسُهُ فِي اللهِ، وَهَانَ عَلَى قَوْمِهِ، فَأَعْطَوْهُ الْوِلْدَانَ فَجَعَلُوا يَطُوفُونَ بِهِ فِي شِعَابِ مَكَّةَ، وَجَعَلَ يَقُولُ: أَحَدٌ أَحَدٌ ".سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب اسلام کا ظہور ہوا تو سب سے پہلے سات لوگوں نے اپنے اسلام کا اظہار کیا: نبی ﷺ، ابوبکر، عمار، سمیہ، صہیب، بلال اور مقداد رضی اللہ عنہم۔ نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے چچا کے ذریعے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کے ذریعے بچایا، لیکن باقیوں کو مشرکین نے پکڑ کر بہت اذیتیں دیں، انہیں لوہے کی بیڑیاں پہنا کر دھوپ میں پھینک دیا جاتا تو ان میں سے ہر ایک نے مشرکین کے مطالبات مان لیے، علاوہ بلال رضی اللہ عنہ کے، انہوں نے اپنے نفس کو اللہ کی خاطر حقیر سمجھا اور ان کی قوم نے انہیں بے وقعت جانا، ان کو بچوں کے ہاتھوں میں دے دیا جاتا، وہ بچے ان کو مکہ کی گلیوں میں گھسیٹتے پھرتے اور یہ اپنی زبان سے صرف «أَحَدٌ أَحَدٌ» ”ایک ہے، ایک ہے“ پکار رہے ہوتے تھے۔