السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المرتد— مرتد کا بیان
باب: ما يحرم به الدم من الإسلام زنديقا كان أو غيره باب: اس اسلام کا بیان جس سے جان (خون) محفوظ ہو جاتی ہے خواہ وہ زندیق ہو یا کوئی اور۔
حدیث نمبر: 16854
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ: " الزِّنْدِيقُ إِنْ هُوَ جَحَدَ وَقَامَتْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةُ فَإِنَّهُ يُقْتَلُ، وَإِنْ جَاءَ هُوَ مُعْتَرِفًا تَائِبًا فَإِنَّهُ يُتْرَكُ مِنَ الْقَتْلِ ".حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زندیق اگر انکار کرے اور اس کے خلاف گواہی قائم ہو جائے تو اسے قتل کیا جائے گا، اور اگر وہ خود اعتراف کرتے ہوئے توبہ کر کے آ جائے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔