السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المرتد— مرتد کا بیان
باب: ما يحرم به الدم من الإسلام زنديقا كان أو غيره باب: اس اسلام کا بیان جس سے جان (خون) محفوظ ہو جاتی ہے خواہ وہ زندیق ہو یا کوئی اور۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، فِي قِصَّةِ تَبُوكَ، وَمَا كَانَ عَلَى الثَّنِيَّةِ مِنْ هَمِّ الْمُنَافِقِينَ أَنْ يَرْجُمُوا فِيهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا كَانَ مِنْ أَقْوَالِهِمْ وَإِطْلَاعِ اللهِ سُبْحَانَهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَسْرَارِهِمْ، قَالَ: فَانْحَدَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الثَّنِيَّةِ وَقَالَ لِصَاحِبَيْهِ، يَعْنِي حُذَيْفَةَ وَعَمَّارًا: " هَلْ تَدْرُونَ مَا أَرَادَ الْقَوْمُ؟ " قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَادُوا أَنْ يَرْجُمُونِي فِي الثَّنِيَّةِ، فَيَطْرَحُونِي مِنْهَا " فَقَالَا: أَفَلَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللهِ فَنَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ إِذَا اجْتَمَعَ إِلَيْكَ النَّاسُ؟ فَقَالَ: " أَكْرَهُ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا قَدْ وَضَعَ يَدَهُ فِي أَصْحَابِهِ يَقْتُلُهُمْ " ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي دُعَائِهِ إِيَّاهُمْ، وَإِخْبَارِهِ إِيَّاهُمْ بِسَرَائِرِهِمْ، وَاعْتِرَافِ بَعْضِهِمْ وَتَوْبَتِهِمْ، وَقَبُولِهِ مِنْهُمْ مَا دَلَّ عَلَى هَذَا قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: وَأَمَرَهُ أَنْ يَدْعُوَ حُصَيْنَ بْنَ نُمَيْرٍ فَقَالَ لَهُ: " وَيْحَكَ مَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا؟ " قَالَ: حَمَلَنِي عَلَيْهِ أَنِّي ظَنَنْتُ أَنَّ اللهَ لَمْ يُطْلِعْكَ عَلَيْهِ، فَأَمَّا إِذْ أَطْلَعْكَ اللهُ عَلَيْهِ وَعَلِمْتَهُ فَإِنِّي أَشْهَدُ الْيَوْمَ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ، وَأَنِّي لَمْ أُؤْمِنْ بِكَ قَطُّ قَبْلَ السَّاعَةِ يَقِينًا، فَأَقَالَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَثْرَتَهُ، وَعَفَا عَنْهُ بِقَوْلِهِ الَّذِي قَالَ.ابن اسحاق قصہ تبوک کے بارے میں کہتے ہیں: ثنیہ مقام پر منافقین نے نبی ﷺ کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس سے باخبر کر دیا تو آپ ﷺ ثنیہ مقام سے ہٹ گئے اور اپنے دو ساتھیوں حذیفہ اور عمار رضی اللہ عنہما سے کہا: ”کیا تم جانتے ہو قوم نے کیا ارادہ کیا تھا؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہوں نے ثنیہ میں مجھے مارنے کا ارادہ کیا“ تو دونوں کہنے لگے: اے اللہ کے رسول ﷺ! جب لوگ آپ کے پاس وہاں جمع ہو رہے تھے، آپ ہمیں حکم کرتے، ہم ان کو قتل کر دیتے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اچھا نہیں لگا کہ لوگ کہیں گے کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کروا رہا ہے۔“
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ پھر حصین بن نمیر کو بلایا گیا اور اسے کہا گیا: تو برباد ہو، تو ایسا کیوں کر رہا تھا؟ کہنے لگا: واللہ! مجھے یقین تھا آپ ﷺ کو پتہ نہیں چلے گا لیکن اللہ نے آپ ﷺ کو اطلاع دے دی اور مجھے پتہ چل گیا اور میں آج گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں کبھی آپ پر ایمان نہ لاتا، تو آپ ﷺ نے اسے معاف کر دیا۔