السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المرتد— مرتد کا بیان
باب: ما يحرم به الدم من الإسلام زنديقا كان أو غيره باب: اس اسلام کا بیان جس سے جان (خون) محفوظ ہو جاتی ہے خواہ وہ زندیق ہو یا کوئی اور۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ أَصَابَ النَّاسَ فِيهِ شِدَّةٌ، قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ لِأَصْحَابِهِ: لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ، ⦗٣٤٥⦘ وَقَالَ: لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ، قَالَ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: فَبَعَثَنِي إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ، فَاجْتَهَدَ يَمِينَهُ بِاللهِ مَا فَعَلَ، قَالَ: فَقَالُوا: كَذَبَ زَيْدٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مَا قَالُوا، حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقِي فِي {إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ} [المنافقون: ١]، قَالَ: وَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَسْتَغْفِرَ لَهُمْ، فَلَوَّوْا رُءُوسَهُمْ، وَقَوْلُهُ: {كَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُسَنَّدَةٌ} [المنافقون: ٤]، قَالَ: كَانُوا رِجَالًا أَجْمَلَ شَيْءٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ زُهَيْرٍ.زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک سفر میں ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ نکلے، لوگوں کو اس میں بہت تکلیف پہنچی تو عبداللہ بن ابی اپنے ساتھیوں کو کہنے لگا: ”جو اللہ کے رسول کے پاس ہیں، ان پر تم خرچ نہ کرنا یہاں تک کہ وہ آپ کے ارد گرد سے ہٹ جائیں“ اور ”ہم مدینہ جا کر اس سے ان ذلیلوں کو نکال دیں گے۔ ہم عزت والے ہیں“ تو میں نے یہ سنا اور جا کر نبی کریم ﷺ کو بتا دیا۔ آپ ﷺ نے اسے بلا کر پوچھا تو اس نے قسم اٹھا دی کہ اس نے ایسا کچھ نہیں کہا، تو لوگ کہنے لگے: زید نے نبی کریم ﷺ سے جھوٹ بولا ہے، تو میرے دل میں جو انہوں نے کہا تھا خیال آیا، تو اللہ تعالیٰ نے میری تصدیق میں ﴿سورة المنافقون﴾ نازل فرما دی، تو نبی کریم ﷺ نے ان کو بلایا اور فرمایا: ”آؤ تمہارے لیے دعائے مغفرت کر دوں“ تو انہوں نے اپنے سر پھیر لیے۔ یہ لوگ بہت خوبصورت تھے۔