السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: أمان المرأة المسلمة والرجل المسلم حرا كان أو عبدا باب: مسلمان عورت اور مسلمان مرد، خواہ وہ آزاد ہو یا غلام، کی دی گئی امان (پناہ) کا بیان۔
حدیث نمبر: 16816
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ، وَكَانَ غَزَا عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، قَالَ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَلَمَّا رَجَعْنَا تَخَلَّفَ عَبْدٌ مِنْ عَبِيدِ الْمُسْلِمِينَ، فَكَتَبَ لَهُمْ أَمَانًا فِي صَحِيفَةٍ فَرَمَاهُ إِلَيْهِمْ، قَالَ: فَكَتَبْنَا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ عُمَرُ: " إِنَّ عَبْدَ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ذِمَّتُهُ ذِمَّتُهُمْ " فَأَجَازَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَمَانَهُ.حافظ ثناء اللہ
فضیل بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں سات غزوات کیے۔۔۔ پھر انہوں نے طویل حدیث ذکر کی اور فرمایا: جب ہم لوٹے تو مسلمانوں کے غلاموں میں سے ایک غلام پیچھے رہ گیا اور اس نے ان کے لیے ایک صحیفے میں امان لکھ دی تھی اور ان کی طرف پھینک دی تھی۔ راوی فرماتے ہیں: ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو (اس معاملے میں) لکھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے جواب ملا کہ مسلمانوں کا غلام مسلمانوں ہی میں سے ہے، اس کا ذمہ ان کا ذمہ ہے، اور آپ رضی اللہ عنہ نے اس کی امان کو جائز قرار دیا۔