حدیث نمبر: 16817
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَا: كُنَّا مَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الدَّارِ وَهُوَ مَحْصُورٌ، وَكُنَّا إِذَا دَخَلْنَا نَدْخُلُ مَكَانًا نَسْمَعُ كَلَامَ مَنْ بِالْبَلَاطِ، فَخَرَجَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمًا مُتَغَيِّرًا لَوْنُهُ، قُلْنَا: مَا لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: إِنَّهُمْ لَيُوَاعِدُونِي بِالْقَتْلِ، فَقُلْنَا: يَكْفِيكَهُمُ اللهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: وَبِمَ يَقْتُلُونِي وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ حَقٍّ "، فَوَاللهِ مَا زَنَيْتُ بِجَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ قَطُّ، وَلَا قَتَلْتُ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ، وَلَا تَمَنَّيْتُ بِدِينِي بَدَلًا مُذْ هَدَانِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْإِسْلَامِ، فَبِمَ يَقْتُلُونِي؟.
حافظ ثناء اللہ

ابو امامہ بن سہل بن حنیف اور عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ گھر میں تھے، جب وہ محصور تھے۔ ہم گھر میں ایسی جگہ سے داخل ہوئے کہ ہم باہر کھڑے لوگوں کی باتیں سن سکتے تھے، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ایک دن نکلے، آپ کا رنگ تبدیل تھا۔ ہم نے عرض کیا: ”اے امیر المؤمنین! خیریت ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”وہ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں۔“ ہم نے عرض کیا: ”اللہ تعالیٰ آپ کو ان کے لیے کافی ہے۔“ انہوں نے فرمایا: ”وہ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں؟ جبکہ میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے: ”کسی بھی مسلمان کا خون صرف تین وجوہات کی بنا پر جائز ہے: اسلام سے پھرنے والا مرتد، شادی شدہ زانی اور ناحق قتل کرنے والا۔“ اللہ کی قسم! نہ تو میں نے جاہلیت میں اور نہ ہی اسلام میں کبھی زنا کیا، اور نہ ہی کسی کو ناحق قتل کیا جب سے اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت دی ہے، اور جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے کبھی اس سے پھرنے کا سوچا بھی نہیں، پھر وہ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں؟“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المرتد / حدیث: 16817
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»