کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مسلمان عورت اور مسلمان مرد، خواہ وہ آزاد ہو یا غلام، کی دی گئی امان (پناہ) کا بیان۔
حدیث نمبر: 16812
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ، يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ جَمَاعَةٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مسلمانوں کا ذمہ ایک ہی ہے، ان کا ادنیٰ بھی اس میں برابر ہے اور جس نے مسلمان کے ذمے کو توڑا، اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے اور اس کی نہ نفلی اور نہ فرضی کوئی بھی عبادت قبول نہیں۔“
حدیث نمبر: 16813
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ: ح قَالَ: وَأنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقُطَيْعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَحْيَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَالْأَشْتَرُ، عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ الْجَمَلِ، فَقُلْتُ: هَلْ عَهِدَ إِلَيْكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدًا دُونَ الْعَامَّةِ؟ فَقَالَ: لَا، إِلَّا هَذَا، وَأَخْرَجَ مِنْ قِرَابِ سَيْفِهِ، فَإِذَا فِيهَا: " الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
قیس بن عباد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں اور اشتر جمل والے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ میں نے کہا کہ عام عہد کے علاوہ اور کوئی عہد آپ سے نبی ﷺ نے لیا تھا؟ فرمایا: ”نہیں، صرف یہ“ اور اپنی تلوار نکالی اور فرمایا: ”مومنوں کے خون برابر ہیں، ان کے ادنیٰ کا ذمہ بھی قبول ہے۔ کسی مومن کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے اور نہ ذمی کو اس کے ذمے میں۔“
حدیث نمبر: 16814
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا ⦗٣٣٦⦘ أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ، يُحَدِّثُ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " إِنْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ لَتُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اگر وہ عورت نہ ہوتیں تو ضرور مسلمانوں کو پناہ دیتیں۔
حدیث نمبر: 16815
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ جَعْفَرُ بْنُ عَنْبَسَةَ بْنِ عَمْرٍو الْيَشْكُرِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الْمَكِّيُّ مِنْ وَلَدِ عَبْدِ الدَّارِ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعَبْدُ لَا يُعْطَى مِنَ الْغَنِيمَةِ شَيْئًا، وَيُعْطَى مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ، وَأَمَانُهُ جَائِزٌ " عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الْمَكِّيُّ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”غلام کو غنیمت کے مال سے کچھ نہیں ملے گا، ہاں اسے بچے ہوئے گھر کے سامان سے دیا جائے اور اس کا امان دینا جائز ہے۔“
حدیث نمبر: 16816
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ، وَكَانَ غَزَا عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، قَالَ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَلَمَّا رَجَعْنَا تَخَلَّفَ عَبْدٌ مِنْ عَبِيدِ الْمُسْلِمِينَ، فَكَتَبَ لَهُمْ أَمَانًا فِي صَحِيفَةٍ فَرَمَاهُ إِلَيْهِمْ، قَالَ: فَكَتَبْنَا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ عُمَرُ: " إِنَّ عَبْدَ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ذِمَّتُهُ ذِمَّتُهُمْ " فَأَجَازَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَمَانَهُ.
حافظ ثناء اللہ
فضیل بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں سات غزوات کیے۔۔۔ پھر انہوں نے طویل حدیث ذکر کی اور فرمایا: جب ہم لوٹے تو (معلوم ہوا کہ) مسلمانوں کے ایک غلام کو نائب بنایا گیا تھا اور اس نے ان کے لیے ایک صحیفے میں امان لکھ دی تھی اور ان کی طرف بھیج دی تھی۔ راوی فرماتے ہیں: ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو (اس معاملے میں) لکھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے جواب ملا کہ جو غلام مسلمانوں کا ہو اور وہ خود بھی مسلمان ہو تو اس کا ذمہ درست ہے، اور آپ رضی اللہ عنہ نے اس کی امان کو جائز قرار دیا۔