السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: أهل البغي إذا فاءوا لم يتبع مدبرهم، ولم يقتل أسيرهم، ولم يجهز على جريحهم، ولم يستمتع بشيء من أموالهم باب: اہلِ بغاوت جب لوٹ آئیں (یا شکست کھا جائیں) تو ان کے بھاگنے والوں کا پیچھا نہ کیا جائے، ان کے قیدیوں کو قتل نہ کیا جائے، ان کے زخمیوں کو ختم نہ کیا جائے، اور ان کے اموال میں سے کسی چیز سے فائدہ نہ اٹھایا جائے۔
حدیث نمبر: 16758
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الصَّيْرَفِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ، ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، ثَنَا يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَتَادَةَ، رَجُلٌ مِنَ الْحَيِّ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْخَيْلِ يَوْمَ النَّهْرَوَانِ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا أَنْ فَرَغَ مِنْهُمْ وَقَتَلَهُمْ، لَمْ يَقْطَعْ رَأْسًا، وَلَمْ يَكْشِفْ عَوْرَةً.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں یوم النہروان حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ گھڑ سواروں میں تھا۔ جب جنگ سے فارغ ہو گئے تو آپ نے نہ کوئی سر کاٹا اور نہ شرمگاہ حلال سمجھی۔