السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: أهل البغي إذا فاءوا لم يتبع مدبرهم، ولم يقتل أسيرهم، ولم يجهز على جريحهم، ولم يستمتع بشيء من أموالهم باب: اہلِ بغاوت جب لوٹ آئیں (یا شکست کھا جائیں) تو ان کے بھاگنے والوں کا پیچھا نہ کیا جائے، ان کے قیدیوں کو قتل نہ کیا جائے، ان کے زخمیوں کو ختم نہ کیا جائے، اور ان کے اموال میں سے کسی چیز سے فائدہ نہ اٹھایا جائے۔
حدیث نمبر: 16757
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الشَّعْرَانِيُّ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَرْفَجَةَ، ⦗٣١٧⦘ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا قَتَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَهْلَ النَّهْرِ جَالَ فِي عَسْكَرِهِمْ، فَمَنْ كَانَ يَعْرِفُ شَيْئًا أَخَذَهُ حَتَّى بَقِيَتْ قِدْرٌ، ثُمَّ رَأَيْتُهَا أَخَذْتُ بَعْدُ. وَرَوَاهُ سُفْيَانُ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَرْفَجَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُتِيَ بِرَثَّةِ أَهْل النَّهْرِ فَعَرَفَهَا، وَكَانَ مَنْ عَرَفَ شَيْئًا أَخَذَهُ، حَتَّى بَقِيَتْ قِدْرٌ لَمْ تُعْرَفْ. وَرَوَيْنَا عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ أَمْوَالِ الْخَوَارِجِ، فَقَالَ: لَا أَرَى فِي أَمْوَالِهِمْ غَنِيمَةً.حافظ ثناء اللہ
عرفجہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اہل نہروان کو قتل کر دیا تو ان کے علاقے میں داخل ہو گئے اور جو چیز پسند آئی اٹھا لی، یہاں تک کہ ایک ہنڈیا باقی بچی اور وہ میں نے اٹھائی، اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ خوارج کا مال غنیمت نہیں ہوتا۔