حدیث نمبر: 16759
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ اللهُ تَعَالَى: {وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا} [الإسراء: 33]، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِيمَا يَحِلُّ دَمُ الْمُسْلِمِ، وَقَتْلُ نَفْسٍ بِغَيْرِ نَفْسٍ ". وَرُوِي عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اعْتَبَطَ مُسْلِمًا بِغَيْرِ قَتْلٍ فَهُوَ قَوَدُ يَدِهِ ".
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا﴾ ”اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے تو یقیناً ہم نے اس کے ولی کو (قصاص کا) اختیار دیا ہے۔“ [سورة الإسراء: 33]
اور رسول اللہ ﷺ نے ان چیزوں کے بارے میں فرمایا جن سے مسلمان کا خون حلال ہو جاتا ہے: ”اور کسی جان کو ناحق قتل کرنا۔“
اور رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے: ”جس نے کسی مسلمان کو بلا وجہ (ناحق) قتل کیا تو اس کے ہاتھ (کے کیے) کا قصاص (لیا جائے گا)۔““

وَاحْتُجَّ أَيْضًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِي ابْنِ مُلْجَمٍ بَعْدَمَا ضَرَبَهُ: أَطْعِمُوهُ، وَاسْقُوهُ، أَحْسِنُوا إِسَارَهُ، فَإِنْ عِشْتُ فَأَنَا وَلِيُّ دَمِي، أَعْفُو إِنْ شِئْتُ وَإِنْ شِئْتُ اسْتَقَدْتُ، وَإِنْ مُتُّ فَقَتَلْتُمُوهُ فَلَا تُمَثِّلُوا.
حافظ ثناء اللہ

جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابن ملجم کے متعلق (جب اس نے آپ پر حملہ کیا تھا) فرمایا: اس کو کھلاؤ پلاؤ اور اچھے قیدی کی طرح رکھو، اگر میں بچ گیا تو میں اپنا خود ولی ہوں، چاہوں معاف کروں یا چاہوں قتل کر دوں، لیکن اگر نہ بچا تو تم اسے قتل کر دینا، لیکن اس کا «مُثْلَة» ”مثلہ“ نہ کرنا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16759
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»