السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: أهل البغي إذا فاءوا لم يتبع مدبرهم، ولم يقتل أسيرهم، ولم يجهز على جريحهم، ولم يستمتع بشيء من أموالهم باب: اہلِ بغاوت جب لوٹ آئیں (یا شکست کھا جائیں) تو ان کے بھاگنے والوں کا پیچھا نہ کیا جائے، ان کے قیدیوں کو قتل نہ کیا جائے، ان کے زخمیوں کو ختم نہ کیا جائے، اور ان کے اموال میں سے کسی چیز سے فائدہ نہ اٹھایا جائے۔
حدیث نمبر: 16756
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ، بِالْبَحْرَيْنِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ، ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى هُوَ ابْنُ حَمَّادٍ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحِلُّ مَالُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ لِأَخِيهِ، إِلَّا مَا أَعْطَاهُ بِطِيبِ نَفْسِهِ " لَفْظُ حَدِيثِ التَّيْمِيِّ وَفِي رِوَايَةِ الرَّقَاشِيِّ: " لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ، يَعْنِي مُسْلِمًا، إِلَّا بِطِيبٍ مِنْ نَفْسِهِ ".حافظ ثناء اللہ
ابو حرہ رقاشی اپنے چچا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کسی کے لیے دوسرے مسلمان کا مال حلال نہیں ہے مگر یہ کہ وہ اپنے نفس کی خوشی سے دے۔“