السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: أهل البغي إذا فاءوا لم يتبع مدبرهم، ولم يقتل أسيرهم، ولم يجهز على جريحهم، ولم يستمتع بشيء من أموالهم باب: اہلِ بغاوت جب لوٹ آئیں (یا شکست کھا جائیں) تو ان کے بھاگنے والوں کا پیچھا نہ کیا جائے، ان کے قیدیوں کو قتل نہ کیا جائے، ان کے زخمیوں کو ختم نہ کیا جائے، اور ان کے اموال میں سے کسی چیز سے فائدہ نہ اٹھایا جائے۔
حدیث نمبر: 16755
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُوَارِزْمِيُّ، ثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَرَّازُ، ثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ، ثَنَا كَوْثَرُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ: " يَا ابْنَ مَسْعُودٍ أَتَدْرِي مَا حُكْمُ اللهِ فِيمَنْ بَغَى مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ؟ " قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " فَإِنَّ حُكْمَ اللهِ فِيهِمْ أَنْ لَا يُتْبَعُ مُدْبِرُهُمْ، وَلَا يُقْتَلُ أَسِيرُهُمْ، وَلَا يُذَفَّفُ عَلَى جَرِيحِهِمْ ". لَفْظُ حَدِيثِ الْخَرَّازِ، وَفِي رِوَايَةِ الْخُوَارِزْمِيِّ: " وَلَا يُجَازُ عَلَى جَرِيحِهِمْ "، زَادَ: " وَلَا يُقْسَمُ فَيْؤُهُمْ " تَفَرَّدَ بِه كَوْثَرُ بْنُ حَكِيمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے ابن مسعود! کیا تم جانتے ہو کہ اس امت میں کوئی بغاوت کرے تو اس کے بارے میں اللہ کا حکم کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے بھاگنے والے کا تعاقب نہ کیا جائے، قیدی کو قتل نہ کیا جائے اور زخمی کو بھی مارنے میں جلدی نہ کی جائے۔“