السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: أهل البغي إذا فاءوا لم يتبع مدبرهم، ولم يقتل أسيرهم، ولم يجهز على جريحهم، ولم يستمتع بشيء من أموالهم باب: اہلِ بغاوت جب لوٹ آئیں (یا شکست کھا جائیں) تو ان کے بھاگنے والوں کا پیچھا نہ کیا جائے، ان کے قیدیوں کو قتل نہ کیا جائے، ان کے زخمیوں کو ختم نہ کیا جائے، اور ان کے اموال میں سے کسی چیز سے فائدہ نہ اٹھایا جائے۔
حدیث نمبر: 16752
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَلْعٍ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، قَالَ: سُئِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ أَهْلِ الْجَمَلِ، فَقَالَ: إِخْوَانُنَا بَغَوْا عَلَيْنَا فَقَاتَلْنَاهُمْ، وَقَدْ فَاؤُوا وَقَدْ قَبِلْنَا مِنْهُمْ.حافظ ثناء اللہ
عبد خیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اہل جمل کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: وہ ہمارے بھائی تھے جنہوں نے ہم پر بغاوت کی تھی، وہ لوٹ آئے تو ہم نے (اسے) قبول کر لیا۔