السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: أهل البغي إذا فاءوا لم يتبع مدبرهم، ولم يقتل أسيرهم، ولم يجهز على جريحهم، ولم يستمتع بشيء من أموالهم باب: اہلِ بغاوت جب لوٹ آئیں (یا شکست کھا جائیں) تو ان کے بھاگنے والوں کا پیچھا نہ کیا جائے، ان کے قیدیوں کو قتل نہ کیا جائے، ان کے زخمیوں کو ختم نہ کیا جائے، اور ان کے اموال میں سے کسی چیز سے فائدہ نہ اٹھایا جائے۔
حدیث نمبر: 16751
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحَذَّاءُ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ الْجَمَلِ: نَمُنُّ عَلَيْهِمْ بِشَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَنُوَرِّثُ الْآبَاءَ مِنَ الْأَبْنَاءِ.حافظ ثناء اللہ
محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جنگ جمل والے دن فرمایا تھا: ”ہم ان پر احسان کرتے ہیں کہ یہ کلمہ توحید کی گواہی دیتے ہیں اور ان کے آباء کو ان کی اولاد سے وارث بنائیں گے۔“