السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: أهل البغي إذا فاءوا لم يتبع مدبرهم، ولم يقتل أسيرهم، ولم يجهز على جريحهم، ولم يستمتع بشيء من أموالهم باب: اہلِ بغاوت جب لوٹ آئیں (یا شکست کھا جائیں) تو ان کے بھاگنے والوں کا پیچھا نہ کیا جائے، ان کے قیدیوں کو قتل نہ کیا جائے، ان کے زخمیوں کو ختم نہ کیا جائے، اور ان کے اموال میں سے کسی چیز سے فائدہ نہ اٹھایا جائے۔
حدیث نمبر: 16753
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذٍ الْعَدْلُ، أَنْبَأَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، أَنَّ كَثِيرَ بْنَ هِشَامٍ، حَدَّثَهُمْ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، ثَنَا مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: شَهِدْتُ صِفِّينَ، وَكَانُوا لَا يُجِيزُونَ عَلَى جَرِيحٍ، وَلَا يَقْتُلُونَ مُوَلِّيًا، وَلَا يَسْلُبُونَ قَتِيلًا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں جنگِ صفین میں شامل ہوا، وہ لوگ زخمیوں کو قتل نہیں کرتے تھے اور نہ ہی مقتولوں کا مثلہ کرتے اور نہ ہی سولی پر لٹکاتے تھے۔