السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: أهل البغي إذا فاءوا لم يتبع مدبرهم، ولم يقتل أسيرهم، ولم يجهز على جريحهم، ولم يستمتع بشيء من أموالهم باب: اہلِ بغاوت جب لوٹ آئیں (یا شکست کھا جائیں) تو ان کے بھاگنے والوں کا پیچھا نہ کیا جائے، ان کے قیدیوں کو قتل نہ کیا جائے، ان کے زخمیوں کو ختم نہ کیا جائے، اور ان کے اموال میں سے کسی چیز سے فائدہ نہ اٹھایا جائے۔
حدیث نمبر: 16750
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْإِسْفِرَائِينِيُّ بِهَا، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّاءُ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، ثَنَا الصَّلْتُ بْنُ بَهْرَامَ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: لَمْ يَسُبَّ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ الْجَمَلِ، وَلَا يَوْمَ النَّهْرَوَانِ.حافظ ثناء اللہ
شقیق بن سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: یوم الجمل اور یوم النہروان میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کوئی قیدی نہیں بنایا۔