السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: أهل البغي إذا فاءوا لم يتبع مدبرهم، ولم يقتل أسيرهم، ولم يجهز على جريحهم، ولم يستمتع بشيء من أموالهم باب: اہلِ بغاوت جب لوٹ آئیں (یا شکست کھا جائیں) تو ان کے بھاگنے والوں کا پیچھا نہ کیا جائے، ان کے قیدیوں کو قتل نہ کیا جائے، ان کے زخمیوں کو ختم نہ کیا جائے، اور ان کے اموال میں سے کسی چیز سے فائدہ نہ اٹھایا جائے۔
حدیث نمبر: 16749
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، قَالَا: ⦗٣١٥⦘ ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ خُمَيْرِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ، سَأَلَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنْ سَبْيِ الذُّرِّيَّةِ، فَقَالَ: " لَيْسَ عَلَيْهِمْ سَبْيٌ، إِنَّمَا قَاتَلْنَا مَنْ قَاتَلَنَا، قَالَ: لَوْ قُلْتَ غَيْرَ ذَلِكَ لَخَالَفْتُكَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جنگِ جمل کے قیدیوں کے بارے میں سوال کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: وہ قیدی نہیں ہیں جو ہم سے لڑے، ہم نے بھی ان سے لڑائی کی، اگر تم اس کے علاوہ کچھ کہو گے تو میں تمہاری مخالفت کروں گا۔