السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: أهل البغي إذا فاءوا لم يتبع مدبرهم، ولم يقتل أسيرهم، ولم يجهز على جريحهم، ولم يستمتع بشيء من أموالهم باب: اہلِ بغاوت جب لوٹ آئیں (یا شکست کھا جائیں) تو ان کے بھاگنے والوں کا پیچھا نہ کیا جائے، ان کے قیدیوں کو قتل نہ کیا جائے، ان کے زخمیوں کو ختم نہ کیا جائے، اور ان کے اموال میں سے کسی چیز سے فائدہ نہ اٹھایا جائے۔
حدیث نمبر: 16748
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ ضُبَيْعَةَ الْعَبْسِيِّ، قَالَ: نَادَى مُنَادِي عَمَّارٍ، أَوْ قَالَ: عَلِيٍّ، يَوْمَ الْجَمَلِ، وَقَدْ وَلَّى النَّاسُ: أَلَا لَا يُذَافُّ عَلَى جَرِيحٍ، وَلَا يُقْتَلُ مَوْلًى، وَمَنْ أَلْقَى السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ، فَشَقَّ عَلَيْنَا ذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
یزید بن ضبیعہ عبسی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یومِ جمل کو سیدنا عمار یا سیدنا علی رضی اللہ عنہما نے اعلان کیا تھا کہ لوگ پھر گئے ہیں؛ لہٰذا کسی زخمی کو قتل نہ کیا جائے اور نہ قیدی کو اور جو اسلحہ ڈال دے وہ امن میں ہے، تو یہ بات ہم پر شاق گزری۔