السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: أهل البغي إذا فاءوا لم يتبع مدبرهم، ولم يقتل أسيرهم، ولم يجهز على جريحهم، ولم يستمتع بشيء من أموالهم باب: اہلِ بغاوت جب لوٹ آئیں (یا شکست کھا جائیں) تو ان کے بھاگنے والوں کا پیچھا نہ کیا جائے، ان کے قیدیوں کو قتل نہ کیا جائے، ان کے زخمیوں کو ختم نہ کیا جائے، اور ان کے اموال میں سے کسی چیز سے فائدہ نہ اٹھایا جائے۔
حدیث نمبر: 16747
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَمَرَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُنَادِيَهُ فَنَادَى يَوْمَ الْبَصْرَةِ: لَا يُتْبَعُ مُدْبِرٌ، وَلَا يُذَفَّفُ عَلَى جَرِيحٍ، وَلَا يُقْتَلُ أَسِيرٌ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَلْقَى سِلَاحَهُ فَهُوَ آمِنٌ، وَلَمْ يَأْخُذْ مِنْ مَتَاعِهِمْ شَيْئًا.حافظ ثناء اللہ
جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بصرہ والے دن یہ اعلان کروایا تھا کہ بھاگنے والے کا پیچھا نہ کیا جائے، زخمی اور قیدی کو قتل نہ کیا جائے اور جو اپنا دروازہ بند کر لے وہ امن میں ہے اور جو اسلحہ ڈال دے وہ بھی امن میں ہے اور ان کے سامان سے کچھ بھی نہیں لیا۔