السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: أهل البغي إذا فاءوا لم يتبع مدبرهم، ولم يقتل أسيرهم، ولم يجهز على جريحهم، ولم يستمتع بشيء من أموالهم باب: اہلِ بغاوت جب لوٹ آئیں (یا شکست کھا جائیں) تو ان کے بھاگنے والوں کا پیچھا نہ کیا جائے، ان کے قیدیوں کو قتل نہ کیا جائے، ان کے زخمیوں کو ختم نہ کیا جائے، اور ان کے اموال میں سے کسی چیز سے فائدہ نہ اٹھایا جائے۔
فِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثَنَا الرَّبِيعُ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، وَأَظُنُّهُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَقَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْرَمَ غَلَبَةً مِنْ أَبِيكَ، مَا هُوَ إِلَّا أَنْ وَلَّيْنَا يَوْمَ الْجَمَلِ فَنَادَى مُنَادِيهِ: لَا يُقْتَلُ مُدْبِرٌ، وَلَا يُذْفَّفُ عَلَى جَرِيحٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: ذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلدَّرَاوَرْدِيِّ فَقَالَ: مَا أَحْفَظُهُ تَعْجَبُ لِحِفْظِهِ، هَكَذَا ذَكَرَهُ جَعْفَرٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ الدَّرَاوَرْدِيُّ: أَخْبَرَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ لَا يَأْخُذُ سَلْبًا، وَأَنَّهُ كَانَ يُبَاشِرُ الْقِتَالَ بِنَفْسِهِ، وَأَنَّهُ كَانَ لَا يُذَفِّفُ عَلَى جَرِيحٍ، وَلَا يَقْتُلُ مُدْبِرًا.علی بن حسین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں مروان بن حکم رحمہ اللہ کے پاس آیا تو وہ کہنے لگے: میں نے تیرے باپ (رضی اللہ عنہ) سے بڑھ کر زیادہ عزت والا غالب نہیں دیکھا جو انہوں نے جنگِ جمل کے دن کیا تھا اور اعلان کروا دیا تھا کہ بھاگنے والے کا پیچھا نہیں کرنا، زخمی کو نہیں مارنا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے یہ حدیث دراوردی سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: اس نے اسے کتنا خوب یاد رکھا ہے! وہ اس کے حافظے پر تعجب کر رہے تھے، جعفر نے اسے اسی سند سے اسی طرح بیان کیا ہے۔ دراوردی نے کہا: ہمیں جعفر نے اپنے والد سے خبر دی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ (مقتول کا) سامان نہیں لیتے تھے، اور خود لڑائی میں شریک ہوتے تھے، اور کسی زخمی کو قتل نہیں کرتے تھے اور نہ بھاگنے والے کو قتل کرتے تھے۔