السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: لا يبدأ الخوارج بالقتال حتى يسألوا ما نقموا، ثم يؤمروا بالعود، ثم يؤذنوا بالحرب باب: خوارج کے خلاف اس وقت تک قتال کا آغاز نہ کیا جائے جب تک کہ ان سے ان کے اعتراضات کی وجہ نہ پوچھی جائے، پھر انہیں حق کی طرف لوٹنے کا حکم دیا جائے، اور (نہ ماننے پر) پھر انہیں جنگ سے خبردار کیا جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ، ثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْقُرَشِيُّ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، مِنْ وَلَدِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ذِي الْجَنَاحَيْنِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، لَمْ يُقَاتِلْ أَهْلَ الْجَمَلِ حَتَّى دَعَا النَّاسَ ثَلَاثًا، حَتَّى إِذَا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ دَخَلَ عَلَيْهِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فقَالُوا: قَدْ أَكْثَرُوا فِينَا الْجِرَاحَ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي وَاللهِ مَا جَهِلْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِمْ إِلَّا مَا كَانُوا فِيهِ، وَقَالَ: صُبَّ لِي مَاءً، فَصَبَّ لَهُ مَاءً فَتَوَضَّأَ بِهِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى إِذَا فَرَغَ رَفَعَ يَدَيْهِ وَدَعَا رَبَّهُ، وَقَالَ لَهُمْ: إِنْ ظَهَرْتُمْ عَلَى الْقَوْمِ فَلَا تَطْلُبُوا مُدْبِرًا، وَلَا تُجِيزُوا عَلَى جَرِيحٍ، وَانْظُرُوا مَا حَضَرَتْ بِهِ الْحَرْبُ مِنْ آنِيَةٍ فَاقْبُضُوهُ، وَمَا كَانَ سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ لَمْ يَأْخُذْ شَيْئًا، وَلَمْ يَسْلُبْ قَتِيلًا.محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جنگ جمل میں اس وقت تک لڑائی شروع نہ کی جب تک تین دن تک لوگوں کو دعوت نہ دیتے رہے۔ جب تیسرا دن ہوا تو سیدنا حسن، سیدنا حسین اور سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم آپ کے پاس آئے اور کہا: ہمارے زخمی زیادہ ہو رہے ہیں، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے بھتیجے! میں سب دیکھ رہا ہوں، میرے لیے پانی لاؤ، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے وضو کیا، دو رکعت نماز ادا کی۔ پھر ہاتھ اٹھا کر اپنے رب سے دعا کی اور پھر ان کو کہا: اگر اس قوم پر غلبہ دے تو انہیں پیٹھ پھیر کر بھاگنے والا نہ کرنا، کسی زخمی پر زیادتی نہ کرنا اور جنگ میں جو برتن ہیں انہیں قبضہ میں لے لینا اور جو اس کے علاوہ ہے وہ ان کے وارثوں کے لیے ہے۔
فرماتے ہیں: یہ منقطع ہے؛ کیونکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کچھ بھی نہیں لیا تھا۔